پشاور ہائیکورٹ کا کسٹمز حکام کیخلاف کارروائی کا عندیہ

شعیب جمیل

پشاور ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود ضبط شدہ درآمدی سامان کو مالک کے حوالے نہ کرنے پر کسٹمز حکام کے خلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دے دیا گیا ۔ درخواست گزار کے وکیل نے کلکٹر آف کسٹمز (انفورسمنٹ) عائشہ بشیر وانی کو حتمی قانونی نوٹس جاری کرتے ہوئے 48 گھنٹوں کے اندر عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے، بصورت دیگر توہین عدالت، ہرجانے کے دعوے اور دیگر قانونی کارروائی شروع کرنے کی وارننگ دی گئی ہے۔قانونی نوٹس ایڈووکیٹ اسحاق علی قاضی کی جانب سے کلیکٹر آف کسٹمز (انفورسمنٹ) عائشہ بشیر وانی کو بھیجا گیا ہے، جس میں مقف اختیار کیا گیا ہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے 11 جون 2026 کو اپنے تفصیلی فیصلے میں کسٹمز حکام کو ہدایت کی تھی کہ ضبط شدہ سامان، جس میں کالی مرچ اور کاجو شامل ہیں، ان کی مالیت کے مساوی پے آرڈر جمع کروانے کی صورت میں فوری طور پر درخواست گزار کے حوالے کیا جائے۔نوٹس کے مطابق عدالتی حکم کی تعمیل میں درخواست گزار نے مقررہ پے آرڈر جمع کروا دیا، تاہم کسٹمز حکام نے آخری وقت میں ڈیوٹی اور ٹیکسوں کے اضافی اور مبینہ طور پر غیر قانونی مطالبات عائد کرکے سامان کی حوالگی روک دی، جو نہ صرف ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے بلکہ عدالتی فیصلے کو غیر مثر بنانے کے مترادف بھی ہے۔قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ضبط شدہ اشیا، کالی مرچ اور کاجو، خراب ہونے والی اشیا کے زمرے میں آتی ہیں اور غیر مناسب سٹوریج کی وجہ سے ان کے خراب ہونے کا شدید خدشہ موجود ہے۔ سامان کی مسلسل عدم حوالگی سے درخواست گزار کو روزانہ کی بنیاد پر بھاری مالی نقصان اور ناقابل تلافی خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کسٹمز حکام، بالخصوص کلیکٹر آف کسٹمز (انفورسمنٹ) پر لازم تھا کہ وہ بلا تاخیر سامان درخواست گزار کے حوالے کرتی، تاہم عدالتی احکامات کے باوجود نئے مالی مطالبات عائد کرنا نہ صرف اختیارات سے تجاوز ہے بلکہ یہ عدالتی حکم کی روح کے بھی منافی ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے کسٹمز حکام کو 48 گھنٹوں کی مہلت دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہائیکورٹ کے 11 جون کے فیصلے پر من و عن عمل درآمد کرتے ہوئے ضبط شدہ سامان فوری طور پر رہا کیا جائے، بصورت دیگر متعلقہ حکام، بشمول کلکٹر آف کسٹمز (انفورسمنٹ) کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی، ہرجانے کے دعوے اور دیگر مناسب قانونی اقدامات کا آغاز کیا جائے گا۔واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں اس امر پر زور دیا تھا کہ جب درخواست گزار عدالت کی جانب سے عائد کردہ شرائط پوری کر دے تو انتظامیہ کسی اضافی شرط یا مطالبے کے ذریعے عدالتی حکم پر عمل درآمد میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed