پشاور ہائیکورٹ کے سینئر پیونی جج جسٹس اعجاز انور نے کہا ہے کہ وکلا آئین کے اصل محافظ ہیں اور بار اور بینچ ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں، کیونکہ عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی موثر فراہمی کے لیے دونوں کے درمیان مضبوط تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلا کو جدید سہولیات اور تحقیقی مواقع کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے اور عدلیہ اس سلسلے میں بار کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نےایبٹ آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اپنے اعزاز میں منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں جسٹس مدثر عامر، جسٹس اورنگزیب، ہزارہ ریجن کی مختلف بار ایسوسی ایشنز کے صدور و جنرل سیکرٹریز، سینئر وکلا، عدالتی افسران، جبکہ دفترِ ایڈووکیٹ جنرل اور دفترِ اٹارنی جنرل کے لا افسران نے بھی شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایبٹ آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر خرم غیاث نے بار کو درپیش مسائل اور ضروریات سے آگاہ کیا اور لاء لیب کے لیے کمپیوٹرز، ہائیکورٹ سے لے کر ڈسٹرکٹ و سیشن کورٹس تک آن لائن قانونی ڈیٹا بیس اور ریسرچ میٹریل تک رسائی، واٹر فلٹریشن پلانٹ اور سولر سسٹم کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔بعد ازاں جسٹس اعجاز انور، جسٹس مدثر عامر اور جسٹس اورنگزیب نے بار کی نئی ڈیجیٹل لائبریری کا افتتاح کیا اور اس میں فراہم کی گئی سہولیات کا جائزہ لیا۔جسٹس اعجاز انور نے بار کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات کی تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ بار روم اور دیگر جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے اور انہیں آئندہ دو ماہ کے اندر مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وکلا کو جدید اور بہتر سہولیات میسر آسکیں۔تقریب کے اختتام پر وکلا برادری نے معزز ججز کی جانب سے بار کے مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل کی یقین دہانی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بار اور بینچ کے درمیان باہمی احترام، اعتماد اور تعاون ہی عدلیہ کی آزادی اور قانون کی بالادستی کی ضمانت ہے۔ وکلا نے اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ عدالتی قیادت کے دور میں وکلا کی فلاح و بہبود اور عدالتی نظام کی بہتری کے لیے مزید مثبت اقدامات کیے جائیں گے۔







