ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرنے کے چند ہی گھنٹوں بعد امریکہ نے ایران ایران پر فضائی حملے، میزائل، ڈرونز اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ ایرانی بحریہ اور فضائیہ نے ایران کے شہر سیریک پر ہونے والے امریکی حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے حملہ آور افواج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ہے اور خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے ۔ عالمی میڈیارپورٹس کے مطابقجمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام)نے اعلان کیا کہ امریکی افواج نے ایران کے میزائل اور ڈرون سٹوریج کے مقامات اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی افواج نے 26 جون کو ایران میں متعدد مبینہ اہداف پر فضائی حملے کیے، سینٹ کام نے ان فضائی حملوں کی ویڈیو جاری کر دی۔سینٹ کام کے مطابق امریکی فوجی کارروائی آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ایران کی جانب سے کیے گئے مبینہ ڈرون حملے کے ردِعمل میں کی گئی۔سینٹکام کے مطابق امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مراکز اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران نے 25 جون کو ایم/وی ایور لوولی نامی تجارتی جہاز پر ایک طرفہ حملہ آور ڈرون سے حملہ کیا، سنگاپور کا پرچم بردار یہ مال بردار جہاز حملے کے وقت عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کو بلاجواز نشانہ بنانا جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی ہے۔سینٹ کام نے کہا ہے کہ ایران کے اس طرزِ عمل نے بین الاقوامی تجارت کی اس اہم گزرگاہ میں جہاز رانی کی آزادی کو بھی نقصان پہنچایا، جہاں سے عالمی تجارتی سرگرمیوں کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔جاری بیان میں سینٹ کام نے کہا ہے کہ ہماری افواج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو محفوظ راہداری فراہم کرنے کے لیے رابطے اور معاونت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔بیان کے مطابق امریکی فوج خطے میں موجود ہے اور مسلسل صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے اور اس کی تمام شرائط پوری طرح نافذ العمل رہیں۔سینٹ کام کی جانب سے ان حملوں کے اعلان سے چند لمحے قبل صدر ٹرمپ سے جب پوچھا گیا کہ آیا امریکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز پر کیے گئے حملے کا جواب دے گا تو انھوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ آپ دیکھ لیں گے۔ سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں ان امریکی کارروائیوں کو ایرانی ڈرون حملے کا طاقتور جواب قرار دیا ہے۔قبل ازیں جمعرات کی شب ایک ڈرون حملے میں کارگو جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر ایرانی ڈرون حملے جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی قرار دیاہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز عبور کرنے والے بحری جہازوں پر 4 ڈرونز سے حملہ کیا، ایک ڈرون بڑے اور بہت مہنگا کارگو لے جانے والے جہاز کے اوپری ڈیک سے ٹکرایا ، نقصان کے باوجود جہاز آگے بڑھنے میں کامیاب رہا جبکہ 3 ڈرونز امریکا نے مار گرائے۔ وائٹ ہاوس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئیامریکی صدر نے ایرانی کارروائی کا جواب دینے کا اشارہ دیدیا تھا۔ صدرٹرمپ نے کہا کہ انہیں اچھا نہیں لگا کہ ایران نے کل چار بار جہاز پر حملہ کیا جس میں سے تین کو ناکام بنادیا گیا تھا،کیا اس پر ردعمل دیا جائیگا،یہ آپ جان لیں گے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی یا کشیدگی بڑھانے کی کوشش کی تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران نے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کئے تھے اور امریکہ نے اس کی مکمل پاسداری کی ہے۔جے ڈی وینس نے کہا کہ اگر ایران کو مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر کوئی اعتراض ہے تو وہ براہ راست رابطہ کر سکتا ہے۔امریکی نائب صدر جو امریکہ کی مذاکراتی ٹیم کی قیادت بھی کر رہے ہیں نے زور دے کر کہا کہ واشنگٹن اپنے وعدوں کا پابند ہے، تاہم کسی بھی جارحانہ اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔دوسری جانب پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ اور فضائیہ نے ایران کے شہر سیریک پر ہونے والے امریکی حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے حملہ آور افواج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔پاسدارانِ انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ امریکی حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ امریکی حملے کا جواب دیا جائے گا۔بیان کے مطابق ایران کا ردعمل تیز اور فیصلہ کن ہو گا، اور وہ ایسے وقت اور مقام پر کیا جائے گا جس کا انتخاب ایران خود کرے گا۔پاسداران انقلاب نے اپنے ابتدائی ردعمل میں مزید کہا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کا ردعمل سخت جواب سے دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے ایرانی ساحلوں پر امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔آئی آر جی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے غیر مجاز علاقے سے گزرنے والے تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا تھا، لیکن امریکہ نے اس بہانے ایران کے ساحلی علاقوں پر فضائی حملہ کیا۔آئی آر جی سی نے ان حملوں کو جنگ بندی اور امریکی وعدوں کی خلاف ورزی قرار دیا، اور دعوی کیا کہ اس کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی تعیناتی کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔اہداف کے مقام، حملے کی نوعیت یا ممکنہ نقصانات کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے آرٹیکل 5 کے مطابق آبنائے ہرمز میں ٹریفک کو کنٹرول کرنا ایران کی ذمہ داری ہے۔ئی آر جی سی نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حملے دہرائے گئے تو ایران کا ردِعمل زیادہ وسیع ہوگا۔ادھر امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر حملے کے بعد ایران پر کیے گئے حملوں پر ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایک بار پھر مذاکرات کے دوران ایران کو نشانہ بنایا ہے۔ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے ایک مرتبہ پھر مذاکرات کے درمیان ایران پر حملہ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سفارتی عمل کا احترام نہیں کرتا۔انہوں نے امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ناکام امریکی صدر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انہیں نہ مذاکرات کے اصولوں کی کوئی پاسداری ہے اور نہ ہی جنگ بندی کے معاہدے کا کوئی احترام ہے۔ایرانی رہنما کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کی اس غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی کے نتائج امریکا کو بھگتنا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی یہ لاپرواہ خلاف ورزی ہمیشہ کی طرح آخرکار پسپائی اور پچھتاوے پر ختم ہوگی۔ابراہیم عزیزی نے مزید کہا کہ الزام تراشی کا کھیل اب مزید نہیں چلے گا، اور امریکا کو اپنی کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔







