شعیب جمیل
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشاور امتیاز علی نے پولیس کے سب انسپکٹرصفدر کو فائرنگ کرکے قتل کرنے اور قتل کے بعد مقتول کے ہاتھ، ناک اور کان کاٹنے کے مقدمہ میں نامزد دو ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا ملزمان کی جانب سے کیس کی پیروی شبیر حسین گیگیانی ایڈوکیٹ نے کی۔ استغاثہ کے مطابق 8 نومبر 2025 کو پولیس سٹیشن مچنی گیٹ پشاور کی حدود میں پولیس سب انسپکٹر صفدر خان کو قتل کر دیا گیا تھا مقتول کو گولیاں مارنے کے علاوہ اس کی ناک، کان اور ہاتھ کی انگوٹھیاں بھی کاٹی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد مقتول کے بھائی حیدر خان نے ایک اور پولیس آفسر سب انسپکٹر ثنااللہ اور جواد کو قتل کا ذمہ دار قرار دے کر ان کے خلاف ایف آئی ائی آر درج کی تھی۔پراسیکیوشن کے مطابق مقتول اور ملزم کے درمیان مستورات کا تنازعہ تھا اور اسی بنیاد پر قتل کیا گیا۔ ملزم ثنااللہ سے آلہ قتل بھی برآمد ہوا تھا، جس کی فرانزک رپورٹ بھی مثبت تھی۔ استغاثہ نے ایک حجام (باربر) کے بیان پر بھی انحصار کیا گیا جس نے مجسٹریٹ کے روبرو اقبالی بیان دیا تھا۔عدالت نے تمام شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ مبینہ برآمدگی قانونی تقاضوں کے مطابق ثابت نہیں ہو سکی اور آلہ قتل کی برآمدگی قابلِ اعتماد نہیں تھی۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ جس شخص کے بیانِ اقبالِ جرم پر استغاثہ انحصار کر رہا تھا، اسے مبینہ طور پر نو دن تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا تھا، لہذا اس بیان کی قانونی حیثیت متاثر ہو گئی۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ملزمان کو بری کرکے انہیں رہا کرنے کے احکامات جاری کردیئے







