بحالی مراکز سے مکمل صحتیابی تک بچوں کو نہ چھوڑاجائے،پشاور ہائیکورٹ

شعیب جمیل

پشاور ہائیکورٹ نے نشے کی لت میں مبتلا دس سالہ موسیٰ کی بحالی مرکز میں داخل کرانے سے متعلق درخواست پر صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کرلی اور ہدایت دی کہ عدالت کو بتایا جائے کہ بچوں کی بحالی کے لیے کتنے مراکز ہیں اور ان میں کونسی سہولیات موجود ہیں۔بدھ کے روز کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ زمونگ کور سے نشے کے لت میں مبتلا بچوں کو والدین کے حوالے کیوں کرتے ہیں؟ یہاں تو سٹریٹ چلڈرن کے بھی ٹھیکہ دار ہوتے ہیں پنجاب سے لوگ یہاں اکر بچوں سے بھیک منگواتے ہیں نشے کے لت میں مبتلا بچوں کو بحالی مراکز سے اس وقت تک دوبارہ نہیں چھوڑنا چاہیے جب تک علاج مکمل نہیں کیا جاتا ۔ رٹ کی سماعت شروع ہوئی تو عدالت میں زمونگ کور کے فوکل پرسن عمر اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نعمان الحق کاکاخیل پیش ہوئے۔دوران سماعت فوکل پرسن نے عدالت کوبتایا کہ موسی نشے کا عادی تھا اور نشے سے چھٹکارے کے لئے زمونگ کور میں زیر علاج تھا تاہم عید پر والدہ اسے لے کر گئی تھی، اب دوبارہ نشے کا عادی ہوگیا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لوگ ایسے بچے کیوں والدین کو حوالے کرتے ہیں، یہاں تو سٹریٹ چلڈرن کے بھی ٹھیکہ دار ہوتے ہیں، پنجاب سے لوگ یہاں اکر بچوں سے بھیک منگواتے ہیں، بچوں کو بحالی مراکز سے دوبارہ نہیں چھوڑنا چاہیے، زمونگ کور کے فوکل پرسن نے عدالت کو بتایا کہ والدین کے پاس عدالت کے احکامات ہوتے ہیں، اسلئے ہم چھوڑ دیتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ زمونگ کور میں بچوں کی سہولیات کی کوئی کمی ہوں تو ہمیں بتا دیں۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ زمونگ کور میں ہم بچوں کی بہترین پرورش ، ٹیلرنگ، موبائل ریپئرنگ، کارپینٹنگ سمیت دیگر سکلز بھی سکھاتے ہیں اگر عدالت احکامات جاری کریں تو موسی کو ہم بحالی مرکز منتقل کردیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ چیک کریں بچوں کے لیے کتنے بحالی مراکز ہے، کیا سہولیات موجود ہے، عدالت نے صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed