تاریخی مسجد مہابت خان کے پیش امام و چیف خطیب مولانا طیب قریشی نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے دوران قیام امن، بین المسالک ہم آہنگی اور اتحاد بین المسلمین کو فروغ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں محرم کے دوران امن اور بھائی چارے کی فضا برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پشاور میں "پیغام پاکستان” کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا طیب قریشی نے کہا کہ محکمہ اوقاف کے تمام خطباء اور علماء کو بھی امن، رواداری اور اتحاد کا پیغام عام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے علماء نے شرکت کی اور اس کے اعلامیے کا بنیادی مقصد بھی محرم الحرام کے دوران امن و بھائی چارے کو یقینی بنانا ہے۔چیف خطیب نے کہا کہ کسی بھی مسلک کو دوسرے مسلک پر تجاوز یا اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور تمام علماء "پیغام پاکستان” کے ضابطہ اخلاق (SOPs) پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، اس کے اداروں اور شہریوں کے خلاف کسی بھی قسم کی پرتشدد کارروائی کو علماء کی اکثریت حرام قرار دے چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے اور انتشار پھیلانے والوں کی دین و دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ محرم الحرام کے دوران صبر، برداشت، رواداری اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔







