وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے 3.652 کھرب روپے کا صوبائی بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کردیاجس میں 242 ارب روپے کے خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ، کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے مقرر کرنے، زرعی شعبے میں ٹیکس ریلیف اور کوئی نیا ٹیکس عائد نہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بدھ کو بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سندھ کا تیرہواں بجٹ پیش کر رہے ہیں جو ان کے لیے اعزاز اور بڑی ذمہ داری ہے، جبکہ مسلسل گیارہ بجٹ پیش کرنا ان کیلئے ایک ریکارڈ اور اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے اپنے مرحوم والدین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دی ہوئی اقدار آج بھی ان کی رہنمائی کرتی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید بینظیر بھٹو، صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا مالیاتی اور ترقیاتی فریم ورک چار بنیادی اصولوں پر مبنی ہے جن میں آئینی حقوق کا تحفظ، مالیاتی پائیداری، قومی استحکام میں کردار اور عوامی فلاح و بہبود شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال عالمی مہنگائی، جغرافیائی کشیدگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث چیلنجنگ ہے، تاہم حکومت نے عوامی ریلیف اور ترقیاتی تسلسل کو ترجیح دی ہے۔بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی اخراجات 3.652 کھرب روپے اور آمدنی 3.41 کھرب روپے متوقع ہے، جس کے باعث 242 ارب روپے کا خسارہ سامنے آئے گا۔ حکومت نے بتایا کہ ترقیاتی حجم میں اضافہ جاری ہے اور رواں مالی سال کے مقابلے میں ترقیاتی اخراجات میں 210 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے







