پشاور ہائی کورٹ نے پشاور سنٹرل جیل کے سامنے سے مبینہ طور پر لاپتہ کیے گئے ایک شہری کی بازیابی سے متعلق درخواست پر وزارت دفاع اور وزارت داخلہ سے جواب طلب کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزار کے مطابق ان کا بیٹا سعودی عرب اور قطر میں روزگار کے سلسلے میں مقیم رہا ہے اور اس کے خلاف پاکستان میں چار مقدمات درج تھے، تاہم وہ تمام مقدمات میں بری یا رہا ہو چکا تھا۔ حکم نامے کے مطابق درخواست گزار نے مقف اختیار کیا کہ ان کا بیٹا جیل سے رہائی کے بعد لاپتہ ہوگیا اور اسے پشاور سنٹرل جیل کے سامنے سے سادہ لباس افراد اپنے ساتھ لے گئے۔ درخواست گزار نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اپنے بیٹے کو تحویل میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ عدالت نے سماعت کے دوران لاپتہ شہری کے والد کا بیان قلمبند کیا اور قرار دیا کہ معاملے کی حساس نوعیت کے پیش نظر وزارت دفاع اور وزارت داخلہ سے جواب طلب کیا جاتا ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر لاپتہ شہری اور اس کے قریبی عزیزوں کا کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر)بھی پیش کیا جائے۔ پشاور ہائی کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 6 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کو جامع رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔







