اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم آفتاب آفریدی نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسلامیہ کالج پشاور میں طلبہ کو درپیش مسائل، خودکشی کے واقعات، فیسوں میں اضافے اور مبینہ منشیات کے پھیلاؤ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلامیہ کالج میں حالیہ خودکشی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور یہ ادارے میں پیش آنے والا چوتھا خودکشی کا واقعہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سال کوئی نہ کوئی طالب علم اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، تاہم ماضی کے واقعات کی تحقیقات نہیں کی گئیں اور نہ ہی ان کی رپورٹس منظر عام پر لائی گئیں۔آفتاب آفریدی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، پولیس اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کا فوری نوٹس لیا جائے اور وجوہات جاننے کے لیے غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فیسوں کی عدم ادائیگی پر طلبہ کو ہراساں کیا جاتا ہے، امتحانات میں شرکت سے روکا جاتا ہے اور بعض اوقات امتحانی مراکز سے باہر نکال دیا جاتا ہے، جس سے طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلامیہ کالج میں فیسوں اور جرمانوں میں مسلسل اضافے نے طلبہ اور ان کے والدین کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ان کے مطابق سمسٹر فیس 70 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ جرمانوں کی مد میں بھی طلبہ سے اضافی رقوم وصول کی جا رہی ہیں۔ناظم اسلامی جمعیت طلبہ نے ہاسٹل انتظامیہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہاسٹل فیسوں میں اضافہ کیا گیا ہے اور بعض طلبہ کو واجبات کی عدم ادائیگی پر خوراک کی فراہمی سے محروم رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہاسٹل کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔آفتاب آفریدی نے مزید الزام عائد کیا کہ اسلامیہ کالج میں منشیات کا استعمال بڑھ رہا ہے اور اس کے تدارک کے لیے مؤثر کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے صوبائی وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا کہ کالج انتظامیہ کی کارکردگی، طلبہ کے مسائل اور حالیہ واقعات کا نوٹس لے کر جامع تحقیقات کرائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کے تحفظ اور فلاح کے لیے خصوصی کمیٹیاں قائم کی جائیں تاکہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔







