انسدادِ دہشت گردی عدالت پشاور نے منشیات کے ایک مقدمے میں مبینہ طور پر جعلی شواہد تیار کرنے اور جھوٹی گواہی دینے کے الزام پر اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی)اعجاز گل کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سات روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔عدالتی نوٹس کے مطابق اے ایس آئی اعجاز گل پر الزام ہے کہ انہوں نے مقدمے کے دوران کانسٹیبل امداد کے جعلی دستخط ریکوری میمو پر ثبت کیے۔ دورانِ سماعت کانسٹیبل امداد عدالت میں پیش ہوئے اور ریکوری میمو پر موجود دستخطوں کو اپنا تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔عدالت نے اپنے نوٹس میں مزید کہا ہے کہ اے ایس آئی اعجاز گل نے مقدمے کی سماعت کے دوران مبینہ طور پر حقائق کے منافی بیان دیا اور جھوٹی گواہی دی، جس کے باعث ان کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھے ہیں۔انسدادِ دہشت گردی عدالت نے متعلقہ افسر کو ہدایت کی ہے کہ وہ سات دن کے اندر الزامات کے حوالے سے اپنا تحریری جواب جمع کرائیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت میں جواب موصول نہ ہونے یا غیر تسلی بخش جواب کی صورت میں اے ایس آئی اعجاز گل کے خلاف قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔







