بجلی پیدا کرنے والا ضلع شانگلہ خود بجلی سے محروم

بجلی پیدا کرنے والا ضلع خود اندھیروں میں، ڈیم متاثرین کے ساتھ معاہدوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف سراپہ احتجاج بن گئے۔شانگلہ جو آبی وسائل سے مالا مال ضلع ہونے کے باوجود آج بھی بدترین لوڈشیڈنگ، غیر اعلانیہ بجلی بندش اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کا شکار ہیں یہاں کے عوام بجلی کے بدترین بندش سے شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ کاروباری سرگرمیاں، تعلیمی نظام، گھریلو زندگی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد روزانہ کئی کئی گھنٹے بجلی کی بندش برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہیں کہ ضلع شانگلہ اپنی ضرورت سے کہیں زیادہ بجلی پیدا کرنے کے باوجود خود اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہیں۔شانگلہ میں کروڑہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے 13 میگاواٹ جبکہ خان خوڑ سے 72 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہیں۔ مجموعی طور پر 85 میگاواٹ سے زائد بجلی قومی گریڈ میں شامل کی جاتی ہیں جبکہ پورے ضلع شانگلہ کی ضرورت بمشکل 7 میگاواٹ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہیں۔ اس کے باوجود مقامی آبادی نہ صرف شدید لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہی ہیں بلکہ ڈیموں اور بجلی گھروں کی تعمیر کے وقت متاثرین سے کیے گئے تحریری معاہدوں اور وعدوں پر بھی عملدرآمد نہیں ہو رہا۔متاثرین کا کہنا ہیں کہ متعدد احتجاج، دھرنوں، مظاہروں، کام بندش اور انتظامیہ کی بارہا یقین دہانیوں کے باوجود آج تک کوئی بڑا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل نہیں کیا جا سکا۔ مقامی لوگوں کے مطابق ڈیموں کی تعمیر کے وقت روزگار، بنیادی سہولیات، پینے کے صاف پانی، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں سے متعلق جو وعدے اور تحریری معاہدے کیے گئے تھے وہ آج بھی فائلوں تک محدود ہیں۔خان خوڑ اورلوئی خوڑمیں ڈیموں کی تعمیرکے بعدسینکڑوں کی تعدادمیں پن چکیاں،مقامی بجلی گھریں ناکارہ ہوچکی ہیں جبکہ سینکڑوں ایکڑزرعی زمینیں بھی شدیدمتاثرہوئی ہیں کہ باوجودواپڈاشانگلہ کے عوام کیساتھ امتیازی سلوک ناقابل برداشت ہیں۔ اھرد کروڑہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے متاثرہ یونین کونسل دونئی کے عوام نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور متعلقہ ٹھیکیدار کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مبینہ کرپشن کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہیں۔ متاثرین کے مطابق کروڑہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے دوران دونئی کے عوام کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر پینے کے پانی کی فراہمی کا منصوبہ محض 20 دن میں مکمل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا تاہم سات سال گزرنے کے باوجود یہ سکیم مکمل نہ ہو سکی اور نہ ہی فعال بنائی جا سکی۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہیں کہ کروڑہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے بارہ سے تیرہ میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہیں لیکن متاثرہ آبادی آج بھی بنیادی سہولت یعنی پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ بعض مفاد پرست عناصر اور مقامی ٹاٹ عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جس کے باعث تین یونین کونسلوں کے ہزاروں افراد مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔متاثرین نے حکومت خیبرپختونخوا، پیڈو، ضلعی انتظامیہ، محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، واپڈا اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہیں کہ پانی فراہمی کی نامکمل سکیم کی فوری اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، مبینہ کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور منصوبے کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کرکے عوام کو پینے کے صاف پانی کی سہولت فراہم کی جائے۔ انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ڈیم متاثرین کے ساتھ کیے گئے تمام تحریری معاہدوں پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ برسوں سے جاری محرومیوں کا خاتمہ ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed