حکومت کو بھی اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہیے’ پشاور ہائیکورٹ

شعیب جمیل

پشاور ہائیکورٹ میں صوبائی وزیر تعلیم مینا خان آفریدی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل)میں شامل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے صوبے میں کرمنل جسٹس سسٹم، پراسیکیوشن کی کارکردگی اور عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے اہم ریمارکس دئیے۔سماعت کے موقع پر صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، صوبائی وزیر مینا خان آفریدی، محکمہ داخلہ کے مشیر اور دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں شریک ہوئے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ صوبے کے پانچ کروڑ عوام کا اختیار حکومت کے پاس ہے، تاہم صوبے میں سزا کی شرح انتہائی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سو ملزمان میں سے صرف چند کو سزا ملتی ہے، جس کی بنیادی وجہ کمزور تفتیش اور پراسیکیوشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے عوام بدامنی اور مسائل کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ حکومت کرمنل جسٹس سسٹم کی بہتری کے لیے موثر اقدامات نہیں کر سکی۔چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ہائیکورٹ نے ایک ہی دن میں 246 مقدمات میں ضمانتیں منظور کیں جبکہ 2 ہزار 246 سیاسی شخصیات کو بھی مختلف مقدمات میں ریلیف فراہم کیا گیا۔ عدالت نے اپنی سطح پر احتساب کا عمل شروع کیا، ایک وکیل کو سزا دی اور 30 ججوں کی ملازمتیں ختم کیں۔انہوں نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 12 سال سے زائد عرصے سے صوبے میں حکومت کرنے والوں کو اپنی کارکردگی کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔ چیف جسٹس نے پراسیکیوشن کے نظام میں اصلاحات، افسران کی تربیت اور جوابدہی کے موثر نظام پر زور دیا۔اس موقع پر وزیر قانون آفتاب عالم نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ لارجر بینچ کے احکامات پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں متعدد اجلاس منعقد کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل بشیر خان وزیر ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ مینا خان آفریدی 7 جون کو جرمنی روانہ ہونا چاہتے ہیں لیکن نام ای سی ایل میں شامل ہونے کے باعث سفر نہیں کر سکتے۔ وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار کے خلاف اس وقت کوئی فعال ایف آئی آر موجود نہیں جبکہ دیگر مقدمات میں وہ ضمانت پر ہیں۔چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ معلوم کریں کہ درخواست گزار کا نام ای سی ایل یا دیگر کنٹرول لسٹوں میں کیوں شامل کیا گیا ہے اور اس حوالے سے عدالت کو آگاہ کریں۔ عدالت نے معاملے پر مزید احکامات جاری کرتے ہوئے سماعت آگے بڑھا دی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed