صوبائی وزیر تعلیم مینا خان آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور ایف آئی اے نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے متعدد ارکان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل)اور پروونشل کنٹرول لسٹ (پی سی ایل)میں شامل کر رکھے ہیں، جس کے باعث وہ سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک سفر نہیں کر پا رہے۔پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مینا خان آفریدی نے بتایا کہ ان کا اپنا نام بھی ای سی ایل میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بطور صوبائی وزیر تعلیم انہیں جامعات اور کالجوں سے متعلق مختلف اجلاسوں میں شرکت کے لیے بیرون ملک جانا پڑتا ہے، تاہم پابندیوں کے باعث وہ اپنے فرائض موثر انداز میں انجام نہیں دے پا رہے۔انہوں نے کہا کہ جرمنی کی ایک یونیورسٹی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو)پر دستخط ہونا ہیں اور اس مقصد کے لیے انہیں جرمنی جانا ہے، لیکن نام کنٹرول لسٹ میں شامل ہونے کی وجہ سے سفر ممکن نہیں۔مینا خان آفریدی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک میں دوہرا نظام رائج ہے، جہاں بعض حکومتی شخصیات بیرون ملک دورے کر رہی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں کو سرکاری اجلاسوں میں شرکت کے لیے بھی جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔پارٹی کے اندر اختلافات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافِ رائے ایک معمول کی بات ہے اور پی ٹی آئی میں بھی مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ تاہم اختلافِ رائے کو فارورڈ بلاک سے تعبیر کرنا درست نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام ارکان سے مشاورت کی جائے گی اور ان کے تحفظات سنے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو کسی قسم کا خطرہ نہیں اور تمام پارلیمنٹرین بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ووٹ اور بیانیے کی بنیاد پر منتخب ہو کر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے تمام ارکان بانی پی ٹی آئی کی قیادت پر متفق ہیں اور یہی صورتحال آئندہ بھی برقرار رہے گی۔







