شاہراہ قراقرم پر پٹن میں آر بی ایم چوک کے مقام پر مقامی افراد نے واپڈا کے خلاف احتجاجی دھرنا دے کر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مرکزی شاہراہ بند کر دی، واپڈاکوہستانیوں کیساتھ امتیازی سلوک کررہاہیں۔ کوہستان کی ذمین پر ڈیمیں تعمیرکی جارہی ہیں،ٹرانسمیشن لائنزبچھایاجارہاہیں جس سے کوہستان میں زمینوں،کھیتوں،باغات کو بڑانقصان ہونے کے باوجودکوہستانیوں کوان کا جائزحق دینے میں واپڈاٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں۔احتجاجی دھرنے کے دوران شاہراہ قراقرم پر گھنٹوں سے پھنسے سیاحوں اورمقامی افرادمیں بھی سخت تکرارہوئی۔بارہ گھنٹے سے زائدجاری احتجاجی دھرنے میں شمالی علاقہ جات جانے والے سیاحوں اور مال بردارٹینکرزاورگاڑیوں کی لمبی قطاروں سے راہگیروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔ مظاہرین کا کہنا ہیں کہ علاقے میں بجلی کے مسائل کے حل اور پٹن گریڈ سٹیشن کو 132 کے وی پر فعال کرنے کے مطالبات پورے ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔مظاہرین کا کہناہیں کہ واپڈا حکام نے عوام کے ساتھ مسلسل وعدہ خلافی کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ داسو ٹرانسمیشن لائن پر کام مکمل ہونے کے بعد پٹن کے 33 کے وی گریڈ سٹیشن کو اپ گریڈ کرکے 132 کے وی گریڈ میں تبدیل کیا جائے گاتاہم داسو ٹرانسمیشن لائن کی تکمیل کے باوجود اپر کوہستان کے اچھار گریڈ کو فعال کر دیا گیا جبکہ پٹن گریڈ سٹیشن کو کئی ماہ گزرنے کے باوجود جان بوجھ کر فعال نہیں کیا جا رہا۔احتجاجی مظاہرے کے شرکا کا کہنا تھا کہ علاقے میں بجلی کی فراہمی شدید متاثر ہیں اور عوام کو بنیادی سہولت سے محروم رکھا جا رہا ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ پٹن گریڈ سٹیشن کو فوری طور پر مکمل کرکے فعال بنایا جائے اور دوبیر خوڑ پاور پراجیکٹ سے علاقے کو بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔مظاہرین نے واضح کیا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور پٹن 132 کے وی گریڈ کو مکمل طور پر فعال نہیں کیا جاتا اس وقت تک شاہراہ قراقرم پر دھرنا اور احتجاج کرینگے خواہ اس میں کئی دن ہی کیوں نہ لگ جائیں۔دوسری جانب شاہراہ قراقرم کی بندش کے باعث دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔







