ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعوی کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کے ثالثوں کے ساتھ رابطے روک دیے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اطلاعات کو غلط اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے مسلسل جاری ہیں۔ایران کی خبر رساں اداروں فارس اور تسنیم نے، جنہیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے مذاکرات کاروں نے جنگ بندی کے لیے ثالثی کرنے والے فریقوں سے رابطے معطل کر دیے ہیں۔رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان میں ایران نواز تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات پر بھی پڑ رہے ہیں۔ثالثی کے عمل میں شامل ایک علاقائی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران نے ثالثوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق تہران نے یہ مقف اختیار کیا تھا کہ مذاکرات کے جاری رہنے کے لیے پہلے لبنان میں جنگ بندی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ان اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی رابطوں کے خاتمے سے متعلق خبریں غلط اور گمراہ کن ہیں۔ٹرمپ نے کہا، ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے۔ چار روز پہلے بھی رابطہ تھا، تین روز پہلے بھی، دو روز پہلے بھی، ایک روز پہلے بھی اور آج بھی رابطہ موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا، یہ مذاکرات کہاں پہنچتے ہیں، اس کا کسی کو علم نہیں، لیکن جیسا کہ میں نے ایران سے کہا ہے، اب معاہدہ کرنے کا وقت آ گیا ہے، ایک نہ ایک طریقے سے۔امریکا کی جانب سے ایرانی جزیرے قشم میں فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ(سینٹ کام)نے ایرانی جزیرے قشم میں فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعوی کیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے ا یرانی جزیرے قشم پر حملے کیے، حملے ایران کی جانب سے میزائل و ڈرون حملوں کے جواب میں کیے۔ امریکی فورسز نے جزیرہ قشم میں ایرانی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا۔سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی فورسز نے ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنا دیے، امریکی فورسز نے متعدد ایرانی میزائل اور ڈرون مار گرائے۔سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ ایران نے بیلسٹک میزائل ہمسایہ ممالک کی طرف داغے، ہدف پر نہ لگ سکے، کویت پر داغے گئے 2 میزائل راستے میں گر گئے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق بحرین پر داغے گئے 3 میزائل امریکا اور بحرین فورسز نے مار گرائے۔ ایران نے 3 ڈرون حملے بحری جہازوں پر کیے جنہیں ناکام بنادیا۔دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعوی کیا ہے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہیکہ جزیرہ قشم میں کمیونیکیشن ٹاور پر امریکا نے حملہ کیا جس کے جواب میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران نے امریکی ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ائیر بیس اور ہیلی کا پٹروں کو نشانہ بنایا







