علماء کرام کو سیکورٹی دینے کے حوالے سے دائردرخواست ناقابل سماعت قرار

پشاور ہائی کورٹ نے علما کرام کو سیکیورٹی کی فراہمی اور شہید ہونے والے علما کے لواحقین کو شہدا پیکج دینے سے متعلق دائر درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے رجسٹرار آفس کے اعتراضات درست قرار دے دیے ہیں۔عدالت کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے لیے درخواست گزار کا متاثرہ فریق ہونا ضروری ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار خود کو متاثرہ فریق ثابت کرنے میں ناکام رہا، لہذا رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کردہ اعتراض درست تھا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے مئوقف اختیار کیا تھا کہ علما کرام کو مناسب سیکیورٹی فراہم کی جائے اور شہید ہونے والے علما کے اہل خانہ کو شہدا پیکج دیا جائے، تاہم ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس سے ظاہر ہو کہ کسی عالم دین نے سیکیورٹی نہ ملنے کی شکایت کی ہو یا کسی شہید عالم کے قانونی وارث نے شہدا پیکج کی عدم ادائیگی کے حوالے سے عدالت سے رجوع کیا ہو۔عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ وکیل کی جانب سے یہ مقف بھی اختیار کیا گیا تھا کہ علما کے تحفظ کے لیے علما پروٹیکشن سیل قائم ہے اور انہیں مناسب سیکیورٹی فراہم کی جانی چاہیے، تاہم درخواست گزار کی قانونی حیثیت اور متاثرہ فریق نہ ہونے کے باعث درخواست قابلِ سماعت نہیں بنتی۔عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو برقرار رکھتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ درخواست گزار کو اس کی درخواست اصل حالت میں واپس کر دی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed