پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک جامع امن معاہدے کا مسودہ تیار کر لیا گیا ۔ عرب میڈیا اور ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق اس تاریخی معاہدے کا اعلان جلد متوقع ہے، اور اگر یہ معاہدہ کامیابی سے طے پا گیا تو اسے اسلام آباد ڈیکلریشن کا نام دیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق، اس نو نکاتی معاہدے کے ڈرافٹ میں جوہری پروگرام کو شامل نہیں کیا گیا بلکہ اس کا پورا محور تمام محاذوں پر فوری اور غیر مشروط جنگ بندی ہے۔معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی سویلین، فوجی یا معاشی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کے پابند ہوں گے۔اس کے علاوہ جاری فوجی کارروائیاں اور میڈیا وار مکمل بند کرنے، ایک دوسرے کے داخلی امور میں مداخلت نہ کرنے اور خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحرِ عمان میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کی آزادی کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔معاہدے کے بعد دونوں فریقین سات دن میں دوبارہ مذاکرات شروع کریں گے اور امریکا ایران پر عائد پابندیاں مرحلہ وار اٹھا لے گا۔







