پراسیکیوٹرز کے چیف جسٹس کے ریمارکس پر تحفظات

شعیب جمیل

 

پراسیکیوشن آفیسر ویلفیئر ایسوسی ایشن (پوا)نے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے مبینہ پراسیکیوٹرز سے متعلق کھلی عدالت میں دیے گئے ریمارکس پر شدید تحفظات اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے پراسیکیوشن برادری کی دل آزاری قرار دیا ہے۔ اور اس کے خلاف 25 مئی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے اور بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھنے کا اعلان کردیا ۔پراسیکیوشن آفیسر ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوشن سروس تمام عدالتوں کا ہمیشہ احترام کرتی آئی ہے اور عدالتی اداروں کے وقار اور تقدس پر کامل یقین رکھتی ہے، تاہم حالیہ ریمارکس سے صوبے بھر کے پراسیکیوٹرز کے جذبات مجروح ہوئے ہیں جو محدود وسائل اور مشکل حالات کے باوجود اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پراسیکیوشن سروس نے فوجداری نظام انصاف کو مضبوط بنانے عدالتوں کی معاونت اور قانون کی بالادستی کے لیے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے، لہذا اس نوعیت کے عمومی ریمارکس نہ صرف پراسیکیوٹرز کے مورال کو متاثر کرتی ہے بلکہ ان کی اجتماعی خدمات اور قربانیوں کو بھی نظر انداز کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ باہمی مشاورت کے بعد تنظیم نے مذکورہ ریمارکس سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس پر اپنے شدید تحفظات ریکارڈ کرائے ہیں۔پراسیکیوشن آفیسر ویلفیئر ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ احتجاجا صوبہ بھر کے تمام پراسیکیوٹرز 25 مئی 2026 کو بلیک ربن ڈے منائے گی اور عدالتوں میں سیاہ پٹیاں باندھ کر پرامن اور باوقار احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔پریس ریلیز کے مطابق ایسوسی ایشن نے عدلیہ کے لیے احترام کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پراسیکیوشن برادری کے جذبات اور تحفظات کو ادارہ جاتی ہم آہنگی، باہمی احترام اور آئینی وقار کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔:

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed