سپریم جوڈیشل کونسل نے 14مئی 2026کو ہونیوالے اجلاس میں یحییٰ آفریدی کے خلاف دائر تمام شکایات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر مسترد کر دیا۔چیف جسٹس یحیی آفریدی نے اپنے خلاف موصول ہونے والی تمام شکایات اور ان پر ہونے والے فیصلوں کو عوامی کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مختلف شہریوں اور وکلا کی جانب سے دائر شکایات کا تفصیلی خلاصہ اور ان پر کیے گئے فیصلے جاری کر دیے گئے ہیں۔کونسل نے میاں صبغت اللہ شاہ ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر شکایت بھی خارج کر دی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ چیف جسٹس نے 2016 میں پشاور ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے ایڈیشنل سیشن ججز کی تعیناتی میں میرٹ کی خلاف ورزی کی۔اسی طرح کراچی کے شہری امجد حسین درانی کی شکایت بھی متفقہ طور پر مسترد کر دی گئی۔ شکایت کنندہ کا مقف تھا کہ سپریم کورٹ کے بینچ نے جنوری 2022 میں ان کی درخواست سنے بغیر خارج کی جو مبینہ بدچلنی کے زمرے میں آتی ہے۔سپریم جوڈیشل کونسل نے لاہور کے وکیل اجمل محمود کی شکایت بھی خارج کر دی، جس میں سپریم کورٹ اور برانچ رجسٹریز میں داخلے پر پابندی کی توسیع کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔کراچی کے رہائشی کامران خان کی شکایت بھی مسترد کر دی گئی، جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے ماضی میں ان کی ایک شکایت کو غیر قانونی طور پر خارج کیا۔علاوہ ازیں تحصیل بورے والا، ضلع وہاڑی کے رہائشی محمد آصف مسعود کی شکایت بھی مسترد کر دی گئی۔ شکایت میں مارچ 2023 میں سپریم کورٹ کے ایک بینچ کی جانب سے سول اپیل کے فیصلے کو قانون کے خلاف قرار دیا گیا تھا۔







