پشاور ہائیکورٹ میں کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں گرفتار ملزم سید نصیر احمد کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس کے بعد عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم جاری کر دیا۔درخواست کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔درخواست گزار کے وکیل لاجبر خان ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو نومبر 2025 میں نیب نے حراست میں لیا تھا۔ ان کے مطابق نیب کا مقف ہے کہ ملزم کے اکانٹ میں 104 ملین روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں۔وکیل نے مقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نیب انکوائری میں پیش ہوتے رہے اور انہوں نے نیب کو بتایا کہ جن چیکس پر دستخط ظاہر کیے جا رہے ہیں وہ ان کے نہیں ہیں۔ ان کے مطابق اس معاملے میں مرکزی کردار بینک منیجر سمیت دیگر افراد کا ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار کے اکانٹ میں رقوم کس نے جمع کروائیں، اس بارے میں انہیں کوئی علم نہیں اور ان کا اس معاملے میں کوئی کردار ثابت نہیں ہوتا۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم سید نصیر احمد کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم جاری کر دی







