آئین کی تشریح آئینی عدالتوں کا کام ہے، الیکشن کمیشن کا نہیں’ جسٹس بابر ستار

پشاور ہائیکورٹ میں اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اور عرفان سلیم کی جانب سے سینیٹ انتخابات کی معطلی کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے الیکشن کمیشن سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا۔درخواستوں کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔درخواست گزاروں کے وکیل علی گوہر درانی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی عدالت سے سزا کے بعد الیکشن کمیشن نے 25 مارچ کو مراد سعید کو ڈی نوٹیفائی کیا، جس کے بعد سینیٹ کی نشست پر 23 اپریل کو انتخابی شیڈول جاری کیا گیا، تاہم 21 اپریل کو الیکشن کمیشن نے انتخابات معطل کر دیے۔وکیل درخواست گزار نے مقف اختیار کیا کہ اعتراض اٹھایا گیا کہ مراد سعید نے حلف نہیں لیا، اس لیے ان کی سینیٹ نشست خالی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق اسی فیصلے کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی گئی۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جس روز عدالت نے آرڈر جاری کیا، اسی دن بعد ازاں الیکشن کمیشن نے کاز لسٹ منسوخ کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اس کیس پر سماعت نہیں چاہتا، اسی وجہ سے کاز لسٹ منسوخ کی گئی۔وکیل درخواست گزار نے مزید استدلال کیا کہ آرٹیکل 224 کے مطابق ایک بار انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد الیکشن کمیشن کسی درخواست پر اس طرح انتخابات معطل نہیں کر سکتا۔سماعت کے دوران جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ درخواست میں آئین کی تشریح مانگی گئی ہے، سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کس طرح آئین کی تشریح کر سکتا ہے۔ اس پر الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکرٹری نے مقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن جنرل کلازز ایکٹ کے تحت کارروائی کر رہا ہے۔جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ آئین کی تشریح کرنا آئینی عدالتوں کا کام ہے، الیکشن کمیشن کا نہیں۔اس موقع پر جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ یہ کوئی عام معاملہ نہیں بلکہ سینیٹ الیکشن کا معاملہ ہے، آئین میں سینیٹ انتخابات کے لیے وقت مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ اگر آپ اس پر فیصلہ کرنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed