پشاور ہائیکورٹ نے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کو پٹرولیم بونس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کے خلاف دائر درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔درخواست کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہم اس میں آرڈر کریں گے۔سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ انہیں سابق وزیراعلی علی امین گنڈا پور کے دور میں پٹرولیم بونس کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا اور وہ تقریبا ڈیڑھ سال تک اس عہدے پر فائز رہے، تاہم موجودہ وزیراعلی نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وزیراعلی نے دوسرے حلقے سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا، جبکہ بدقسمتی سے ان کے حلقے کا رکن صوبائی اسمبلی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن)سے تعلق رکھتا ہے۔شیر افضل مروت نے مقف اختیار کیا کہ پٹرولیم بونس کمیٹی کی چیئرمین شپ رکن قومی اسمبلی کے دائرہ اختیار میں آتی ہے اور روایت کے مطابق کمیٹی کا چیئرمین بھی ایم این اے ہوتا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ کی مبینہ سازش کے تحت عہدے سے ہٹایا گیا اور صوبائی حکومت انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ ان کے بقول پہلے ان کے حلقے کے ترقیاتی فنڈز بند کیے گئے اور اب انہیں کمیٹی سے بھی نکال دیا گیا۔شیر افضل مروت نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں کمیٹی سے ہٹانے کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا جائے۔







