صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان نے اسلام آباد میں وزیراعلی سہیل آفریدی کا قافلہ روکنے پر وفاق اور پنجاب حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ منتخب وزیراعلی کا راستہ روکنا آئین کیخلاف ورزی ہے، لیکن فارم 47 کے حکمران آئین، قانون اور قوانین سے ناواقف ہیں، وفاق اور پنجاب حکومتوں نے خوف عمران میں جمہوری روایات پامال کیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، صوبائی کابینہ اور منتخب نمائندوں کو روکنا قابل مذمت اقدام ہے، وزیراعلی بانی چیئرمین عمران خان اور ان کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل کی جانب پرامن طور پر رواں دواں تھے، تاہم ان کا راستہ روکا گیا، وفاق اور پنجاب حکومت نہیں جانتی کہ منتخب وزیراعلی کا راستہ روکنا آئین کیخلاف ورزی ہے، وفاقی اور پنجاب حکومتوں نے آمرانہ طرز حکمرانی اختیار کر رکھی ہے۔شفیع جان نے کہا کہ وفاق اور پنجاب حکومتوں نے خوف عمران میں جمہوری روایات پامال کیں، صوبے کے وزیر اعلی اور سیاسی رہنماں کی نقل و حرکت روکنا جمہوری آزادیوں پر قدغن کے مترادف ہے، فارم 47 کے ذریعے وفاق اور پنجاب پر مسلط کردہ حکمرانوں کو عوامی مینڈیٹ کا کوئی احساس نہیں، موجودہ جعلی وفاقی اور پنجاب حکومتیں نہ آئین و قانون کو مانتی ہیں اور نہ ہی عدالتی احکامات کو تسلیم کرتی ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ 50 رویے اسٹامپ پیپر پر ملک سے فرار ہونے والے آج اقتدار پر قابض ہے، بانی چیئرمین عمران خان کو 200 روز سے زائد غیر قانونی طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ، اور صحت سہولیات سے بھی محروم رکھا گیا، اب فیملی کے مطالبے پر بھی ہسپتال منتقل نہیں کیا جارہا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان تک ان کے اہل خانہ اور ذاتی معالجین کی رسائی فوری طور پر دی جائے، عمران خان کو فوری طور پر علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا جائے، کیونکہ ذاتی معالجین کی نگرانی میں علاج کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔







