پاکستان ہندوکوان تحریک کے صوبائی صدر اور ممتاز سماجی شخصیت اکبر سیٹھی نے ملک میں جاری حالیہ معاشی بحران، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور توانائی بچت کے نام پر نافذ سمارٹ لاک ڈان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر آزمائش، نئے بحران اور پابندی کا بوجھ صرف غریب عوام پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ عوام کو کفایت شعاری کا درس دینے والا حکمران طبقہ خود اس پر عمل پیرا ہونے کو تیار نہیں ہے، اپنے اخباری بیان میں کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے ملک بھر میں مہنگائی کے ایک خطرناک طوفان کو جنم دے دیا ہے، جس کے باعث گھی، آٹا، دالیں، چینی اور دیگر اشیائے خوردونوش عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں، انہوں نے کہا کہ عوام پہلے ہی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، گیس کی قلت اور پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جبکہ اب توانائی بچت کے نام پر سمارٹ لاک ڈان نافذ کر کے تاجروں اور کاروباری طبقے کو مزید معاشی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے، لاک ڈان میں عید الاضحی تک ریلیف کے بجائے مکمل ختم کیا جائے، ملک کا سفید پوش اور غریب طبقہ معاشی طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ جب عوام میں اشیائے خوردونوش خریدنے کی سکت نہیں رہی، تو وہ یوٹیلٹی بلز، گھروں کے کرائے اور بچوں کی سکول فیسیں کہاں سے پوری کریں،؟ ان سنگین سوالات کے جواب آخر کس سے مانگے جائیں،؟ اکبر سیٹھی نے حکمران طبقے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ملک کو واقعی کفایت شعاری کی ضرورت ہے تو پھر حکمران اپنی شاہانہ اخراجات ، مراعات، پروٹوکول، مہنگی لگژری گاڑیوں اور بھاری تنخواہوں میں کمی کیوں نہیں کرتے،؟ عوام کو بار بار قربانی کا درس دینے والے خود کب سادگی اور قناعت اختیار کریں گے، انہوں نے قوم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج وقت کا تقاضا ہے کہ پوری قوم خوف، مایوسی اور غلامانہ سوچ سے نکل کر اپنے آئینی و بنیادی حقوق کے لیے متحد ہوں۔ خیبر سے کراچی اور کشمیر سے گلگت بلتستان تک ہر پاکستانی کو ایک آواز بننا ہوگا کیونکہ پاکستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے اور اس کے وسائل پر سب کا برابر حق ہے، انہوں نے عزم کا اظہار کیا کہ جس دن قوم یکجا ہوگئی، عوام کے حقوق ان کی دہلیز پر ہوں گے اور ملک میں حقیقی معنوں میں عوامی حکمرانی قائم ہوگی۔







