پشاور ویمن چیمبر میں انکیوبیشن سینٹر کے قیام پر زور

پاکستان بھر کی ویمن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی نمائندہ خواتین نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے ہیڈ آفس میں منعقدہ مشاورتی اجلاس میں شرکت کی، جس کی صدارت نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے کی۔
اجلاس کے دوران پشاور ویمن چیمبر کی صدر قرةالعین ممتاز نے خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور ملک بھر کے ویمن چیمبرز کے درمیان ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے کے حوالے سے اہم تجاویز پیش کیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے تمام ویمن چیمبرز کے درمیان مؤثر رابطے اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ خواتین تاجروں کو درپیش مسائل پر مشترکہ حکمتِ عملی، تجربات کے تبادلے اور مؤثر آواز کو یقینی بنایا جا سکے۔
قرةالعین ممتاز نے مطالبہ کیا کہ ایف پی سی سی آئی کی تمام مرکزی کمیٹیوں میں ویمن چیمبرز کو مساوی نمائندگی دی جائے تاکہ خواتین کاروباری شخصیات پالیسی سازی اور اہم فیصلوں میں فعال کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے ایف پی سی سی آئی میں ویمن بزنس فسیلیٹیشن ڈیسک کے قیام کی تجویز بھی پیش کی اور کہا کہ اس ڈیسک کا انتظام تمام صوبوں کی نمائندگی کے تحت باری باری انجام دیا جائے تاکہ ہر خطے کی خواتین کاروباری برادری کو یکساں سہولیات میسر آ سکیں۔
خیبر پختونخوا میں خواتین کی زیرِ قیادت ابھرتے ہوئے کاروباروں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پشاور ویمن چیمبر میں انکیوبیشن سینٹر کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تاکہ خواتین اسٹارٹ اپس، جدت طرازی اور کاروباری ترقی کے منصوبوں کو مؤثر معاونت فراہم کی جا سکے۔
انہوں نے ٹریڈ آرگنائزیشن رولز کے مجوزہ مسودے کو مشاورت اور جائزے کے لیے شیئر کرنے کی درخواست بھی کی اور کہا کہ ضابطہ جاتی معاملات میں شفافیت اور اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت انتہائی اہم ہے۔
ڈیجیٹل اصلاحات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پشاور ویمن چیمبر نے ڈی جی ٹی او سسٹم کی ڈیجیٹائزیشن پر بات کی اور اس عمل کو مزید مؤثر اور کاروبار دوست بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے چیمبر کے عملے، عہدیداران اور اراکین کے لیے مہارتوں میں اضافے اور استعداد کار بہتر بنانے کے پروگرامز کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا تاکہ ادارہ جاتی کارکردگی اور کاروباری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
قرةالعین ممتاز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک بھر میں خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سازگار پالیسیوں، ادارہ جاتی تعاون اور خصوصی ترقیاتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
اجلاس کے دوران انہوں نے نائب صدر ایف پی سی سی آئی کو او سی ایچ اے، ترکیہ اور جرمنی کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور انہیں خواتین کاروباری افراد کے لیے بین الاقوامی تعاون اور نئے مواقع کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
مشاورتی اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مربوط کوششوں، مؤثر پالیسی سازی اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے پاکستان میں خواتین کے معاشی کردار کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed