جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر نے لوئر دیر کے ضلعی ہیڈکوارٹر تیمرگرہ میں بدل دو نظام کے سلسلے منعقدہ ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں نظام کی تبدیلی کیلئے بھرپور عوامی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ جلسے میں ہزاروں کارکنان، نوجوانوں، عمائدین علاقہ اور مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جبکہ جلسہ گاہ جماعت اسلامی کے جھنڈوں، بینرز اور استقبالی کیمپوں سے سجائی گئی تھی۔اپنے خطاب میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لوئر دیر کے عوام نے پہاڑوں کے درمیان تاریخی اور شاندار جلسہ منعقد کرکے ثابت کردیا کہ تبدیلی کی خواہش پورے ملک میں موجود ہے۔ انہوں نے مقامی قیادت اور کارکنان کو کامیاب جلسے کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ جلسہ اختتام نہیں بلکہ ایک نئی جدوجہد کا آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں فرسودہ اور ظالمانہ نظام کے خلاف عوام کو منظم کر رہی ہے اور لوئر دیر میں 80 ہزار ممبرز بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور ناانصافی نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ گزشتہ 79 سالوں سے ملک پر مخصوص اشرافیہ حکومت کر رہی ہے، جن میں طاقتور بیوروکریٹس، جاگیردار، سرمایہ دار اور مختلف مافیاز شامل ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان طبقات نے آپس میں اتحاد قائم کرکے ملکی وسائل پر قبضہ جما رکھا ہے اور عوام کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ صرف نظام کی شاخیں نہیں بلکہ اس کی جڑیں اکھاڑ دی جائیں۔ ان کے بقول جماعت اسلامی عوامی طاقت سے ایک ایسا نظام قائم کرنا چاہتی ہے جہاں انصاف، میرٹ، تعلیم، روزگار اور عوامی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔امیر جماعت اسلامی نے سیاسی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیاست میں گولی اور گالی کے کلچر کے خلاف ہیں اور چاہتے ہیں کہ تمام جماعتیں تعلیم، خدمت اور کارکردگی کی بنیاد پر مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ملک بھر میں ہزاروں تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں، جبکہ حکومتیں لوئر دیر جیسے علاقوں میں ایک بھی معیاری کالج قائم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔انہوں نے نوجوانوں کو جماعت اسلامی کی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی حقیقی تبدیلی نوجوانوں کی شرکت کے بغیر ممکن نہیں







