حکومت کیلئے نئی مشکل’ مولانا فضل الرحمن کاملک گیر احتجاج کا اعلان

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے نے مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب فیصلے ایوان میں نہیں بلکہ میدان میں ہوں گے، اور 22 مئی کو ملک بھر میں مظاہرے کیے جائیں گے۔کراچی میں جمعیت علمائے اسلام کی وحدت امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوام مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں، اس لیے ان کے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلنا ناگزیر ہو چکا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ 22 مئی کو تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوں گے، جبکہ 4 جون کو پشین میں بڑا جلسہ منعقد کیا جائے گا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام عوام کے دکھ درد میں برابر کی شریک ہے اور ملک میں امن، روزگار، تعلیم اور مہنگائی میں کمی کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی۔انہوں نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام پر مہنگائی کے بوجھ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ریلیف کے اقدامات ناکافی ہیں۔سربراہ جے یو آئی نے خارجہ پالیسی، خطے کی صورتحال اور مسلم دنیا کے اتحاد پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کو مشترکہ دفاعی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت علمائے اسلام جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ فلسطین غزہ کے مسلمانوں پر جو بیتی، اس سے ساری دنیا دیکھتی رہی، افسوس کہ امت مسلمہ بھی تماشائی بن کر رہی، امت مسلمہ کا ضمیر سویا رہا اور اب مسئلہ قبلہ اول سے ایران تک پہنچ گیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایران کو اسرائیل نے سرکرلیا تو اسرائیل پاکستان کے دروازے پر ہوگا، یہ امت مسلمہ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، ان کی نظریں حرمین الشریفین پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ عرب ممالک سے کہتا ہوں یہ ایک ہونے کا وقت ہے، آئیں ایک دفاعی قوت بن کر امت کا دفاع کریں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان قومی یکجہتی سے محروم ہے، جمعیت علامائے اسلام قومی یک جہتی کی مثال ہے، ہم نفرت تعصب کے قائل نہیں ہیں، اختلاف پر بات کریں مگر سلیقے اور شائستگی کے ساتھ کریں، ہم نفرتوں کی سیاست کو دفن کرتے ہیں، ہم پاکستان میں شدت کی نہیں محبت کی سیاست کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف کچھ قوتیں ہم پر کفر کے فتوے لگاتی ہیں، ایک طرف ہمیں پارلیمنٹ سے باہر کیا جاتا ہے، ہم پگڈنڈی پر سفر کر رہے ہیں، ہم نے باجوڑ میں ایک جنازے میں 80 لاشیں اٹھائیں، کرم، وزیرستان اور مہمند میں علما ہی کیوں نشانے پر ہیں، ہم نے اپنی تاریخ سیکسی کے سامنے سرجھکانا نہیں سیکھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے جو بھی قتل کریگا اس کا بدلہ نہیں لوں گا، میرے قتل کی ذمہ دار ریاست ہوگی، فون کرکے کہتے ہیں کہ آپ نہ جائیں، یہاں بھی روک رہے تھے لیکن میں نیکہا جاں گا۔حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں پیٹرول 16فیصد اور پاکستان میں 61 فیصد مہنگا ہوا، ایران سے تیل برآمد کرنے کا معاہدہ کرو۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ ویسے ہی ڈاکووں کے ہاتھ میں ہے، صدر پاکستان مستثنی ہیں، زندگی بھر اس کے خلاف مقدمہ نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ آج ملک میں اداروں کی نجکاری کی جا رہی ہے، مدارس پر قدغن لگائی جا رہی ہے، مدارس کی قانون سازی پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے، ملک میں امن چاہیے، روزگار اور تعلیم چاہیے، مہنگائی کم کی جائے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے امریکا اور ایران مذاکرات کے سبب مظاہرے ملتوی کیے تھے لیکن 22 مئی کو ملک بھر میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed