کوہاٹ کے بزرگ، معروف عالمِ دین، شیخ الحدیث اور جامعہ دارالعلوم مدرسہ حقانیہ بلی ٹنگ کے مہتمم مولانا عبدالقادر کو چاقو کے پے در پے وار کر کے شہید کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ ان کے اپنے پوتے مولوی عبدالمعین کے ہاتھوں پیش آیا جس نے مبینہ طور پر چاقو سے حملہ کر کے انہیں شدید زخمی کر دیا۔ زخمی حالت میں انہیں فوری طور پر ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال کوہاٹ منتقل کیا گیا جہاں سے بعد ازاں پشاور ریفر کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے دو روز قبل رات کی تاریکی میں مدرسے کے اندر اپنے دادا پر حملہ کیا اور موقع سے فرار ہو گیا تھا۔ بعد ازاں کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ادھر بعض ذرائع کے مطابق ملزم کا ذہنی توازن درست نہیں تھا اور واقعہ گھریلو ناچاقی کا شاخسانہ بتایا جا رہا ہے۔مرحوم شیخ الحدیث مولانا عبدالقادر نے دین اسلام کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیاجن کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی نماز جنازہ آبائی علاقے منداخیل میں ادا کی گئی جس میں علمائے کرام، طلباء اور مقامی افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔







