مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کی سینئر رکن صوبائی اسمبلی آمنہ سردار نے نسوار ریگولیشن بل 2026صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا ۔مجوزہ بل کا بنیادی مقصد نسوار پر مکمل پابندی عائد کرنا نہیں بلکہ اس کی تیاری، فروخت اور تقسیم کو ایک منظم، شفاف اور قانونی فریم ورک کے تحت لانا ہے، تاکہ عوامی صحت خصوصاً بچوں اور نوجوانوںکو اس کے مضر اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔بل کے مطابق نسوار کی تیاری اور فروخت کے لیے باقاعدہ لائسنس کا حصول لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نابالغ افراد کو نسوار کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات کے قریب اس کی فروخت محدود کرنے، اور غیر رسمی و غیر رجسٹرڈ فروخت کے خلاف مؤثر کارروائی کو بھی قانون کا حصہ بنایا گیا ہے۔واضح رہے کہ نسوار خیبرپختونخوا کے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں وسیع پیمانے پر استعمال کی جاتی ہے، تاہم اس کی تیاری، فروخت اور تقسیم کے حوالے سے اب تک کوئی جامع ریگولیٹری نظام موجود نہیں تھا۔ یہ بل اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے جس کا مقصد صحتِ عامہ کے تقاضوں کے مطابق اس صنعت کو منظم کرنا اور خاص طور پر نوجوان نسل کو اس کے نقصانات سے بچانا ہے۔بل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے آمنہ سردار نے کہا کہ تمباکو ایک قانونی شے ہے مگر اس کی فروخت ذمہ داری اور سخت ضوابط کے تحت ہونی چاہیے۔ اس قانون سازی کا مقصد نوجوانوں میں اس کے نقصان دہ استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا اور مارکیٹ کو ایک جوابدہ اور شفاف نظام کے تحت لانا ہے۔







