سمارٹ لاک ڈان اور ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باعث پشاور میں معاشی بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 50 ہزار سے زائد مزدوروں کے گھروں میں فاقہ کشی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، جبکہ ہزاروں دیہاڑی دار مزدور اور ڈیلی ویجز ملازمین بے روزگار ہو گئے ہیں۔کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہونے کے باعث شہر میں بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ آمدن نہ ہونے کے سبب درجنوں افراد کے بجلی اور گیس کے کنکشن بھی منقطع کر دیے گئے ہیں، اس صورتحال میں جہاں مہنگائی زوروں پر ہو، ایندھن کی قلت ہو، اور وسائل سے مسائل زیادہ ہو گئے تو پشاور میں معاشی بحران شدید تر ہوتا جائیگا ۔کاروباری حالات بدترین ہو چکے ہیں اور تاجروں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، بجلی بچانے کے لیے کاروباری اوقات کار پر عائد پابندیاں تاجروں کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں اور بیشتر کاروباری افراد اپنے اخراجات تک پورے نہیں کر پا رہے۔ان کا کہنا تھا کہ شہر میں معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث نہ صرف کاروبار سکڑ رہا ہے بلکہ گھریلو معیشت بھی شدید متاثر ہو رہی ہے، شادی سیزن کے باوجود مارکیٹوں میں خریداروں کا رش دیکھنے میں نہیں آ رہا جس سے کاروباری بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ سمارٹ لاک ڈان اور ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے باعث پشاور میں معاشی بحران شدید ہوتا جا رہا ہے.







