کوئلہ کان میں کام کے دوران شانگلہ کا مزدور جاں بحق

کوئلہ کان میں ایک اورحادثہ ،علاقہ پورن کے نوجوان گل نواب رزق حلال کی تلاش میں سینکڑوں فٹ زیرزمین دوران کام اپنے جان کی بازی ہارگیا،رواں ہفتہ کوئلہ کان حادثے میں جان بحق دوسراجنازہ شانگلہ بھیج دیاگیاجبکہ رواں ماہ جان بحق ہونے والے کوئلہ کان مزدوروں کی تعدادچارہوگئی۔ کوئلہ کان کے مختلف حادثات میں تین مزدورزخمی بھی ہوئے جوبعدمیں معذورہوجاتے ہیں۔گزشتہ روزکوئلہ کان میں کام کرنے والے شانگلہ کے تحصیل پورن کے علاقے بینگلئی سے تعلق رکھنے والا نوجوان گل نواب ولد حاضر گل کوئلہ کان میں کام کے دوران جاں بحق ہو گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں غم کی لہر دوڑ گئی اور ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ مرحوم کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں علاقہ مکینوں نے شرکت کی۔شانگلہ کی کل آبادی کا 65 فیصد سے زائد واسطہ بلاواسطہ طور پر کوئلہ کی صنعت سے وابستہ ہے۔ روزگار کے محدود مواقع کے باعث یہاں کے نوجوان ملک کے مختلف حصوں میں واقع خطرناک کوئلہ کانوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کانوں میں نہ تو حفاظتی انتظامات تسلی بخش ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے موثر نظام موجود ہوتا ہے جس کے باعث آئے روز حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں جب بھی کوئلہ کانوں میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اس میں شانگلہ کے مزدوروں کے جاں بحق یا زخمی ہونے کی اطلاعات اکثر سامنے آتی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed