ٹرمپ کا ایران پالیسی پر یوٹرن، جوہری معاہدے پر نرمی دکھا سکتے ہیں

برطانوی اخبار ڈیل میل نے دعوی کیا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک ایسے نئے جوہری معاہدے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت ایران کو ایک دہائی بعد یورینیم افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ پہلے یورینیم افزودگی کے معاملے پر ایران پر کم از کم 20 سالہ پابندی چاہتے تھے کیوں کہ انہیں خدشہ تھا کہ قلیل مدتی معاہدہ 2015 کے اس جوہری معاہدے سے مشابہ ہوگا جسے انہوں نے بعد میں ختم کر دیا تھا۔سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت ایران کو 15 سال تک شہری سطح سے زیادہ یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں تھی۔ تاہم حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ جنگ کے خاتمے کے لیے اس معاملے میں لچک دکھا رہے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق رواں ماہ ایک امریکی طیارے کی تباہی کے بعد صدر ٹرمپ نے کئی گھنٹوں تک اپنے مشیروں اور اعلی فوجی قیادت پر شدید غصے کا اظہار کیا تھا۔تین اپریل کو ایران کی جانب سے امریکی فضائیہ کے ایف 15 ای اسٹرائیک ایگل طیارے کو مار گرایا گیا تھا، جس میں سوار دو اہلکار اس جنگ کے دوران ایرانی حکام کی براہِ راست فائرنگ کا نشانہ بننے والے پہلے امریکی تھے۔رپورٹ کے مطابق اس واقعے کے بعد 1979 میں تہران میں ایرانی عملے کو یرغمال بنائے جانے کے واقعے کی یادیں بھی صدر ٹرمپ کے ذہن میں تازہ ہو گئیں۔ انہوں نے فوری طور پر پائلٹس کو بازیاب کرانے کا مطالبہ کیا، تاہم ایران میں امریکی فوج کی زمینی موجودگی نہ ہونے کے باعث کارروائی میں مشکلات پیش آئیں۔امریکی حکام کے مطابق ایک پائلٹ کو سات گھنٹے بعد بچا لیا گیا، جب کہ دوسرے کو ہفتے کی رات ایک پیچیدہ آپریشن کے ذریعے بازیاب کرایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس رات صدر ٹرمپ دو بجے تک جاگتے رہے تھے۔ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور سے قبل ایران کے سرکاری میڈیا نے امریکا کے ساتھ آئندہ امن مذاکرات سے انکار کیا ہے، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران بات چیت میں دلچسپی رکھتا ہے۔گزشتہ روز تہران نے امریکی بحریہ کی جانب سے ایک ایرانی آئل ٹینکر کو روکنے کی کارروائی کے ردعمل میں امریکی افواج پر حملے کی دھمکی بھی دی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق آبنائے ہرمز میں وارننگ نظر انداز کرنے پر ایرانی ٹینکر پر فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں ایرانی حکام نے امریکی افواج کے خلاف کارروائی کی تیاری کا بھی عندیہ دیا تھا۔ادھر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ کی قیمت 4.74 فیصد اضافے کے بعد 94.66 ڈالر فی بیرل جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 5.6 فیصد اضافے کے ساتھ 88.55 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed