وومن یونیورسٹی مردان میں پاک چین دوستی کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر چائنہ ونڈو اور وومن یونیورسٹی مردان کے اشتراک سے شاندار تقریب اور سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سالگرہ کا کیک کاٹا گیا ۔سیمینار سے ممتاز ماہرین تعلیم اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اسکالرز نے خطاب کیا ۔ یونیورسٹی کی طالبات نے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔ یونیورسٹی کی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے تقریب سے خطاب میںکہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان 75 سالہ دوستی باہمی اعتماد، احترام اور تعاون کی روشن مثال ہے جسے مزید مضبوط بنانے میں تعلیم بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔


انہوں نے کہا کہ پاک چین دوستی کو پہاڑوں سے بلند، سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی قرار دیا جاتا ہے اور گزشتہ دہائیوں میں یہ تعلق ایک مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں پاکستانی طلبہ چین میں اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جہاں انہیں جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی سے آگاہی حاصل ہو رہی ہے۔وائس چانسلر نے کہا کہ پاکستان میں چینی زبان اور ثقافت کے فروغ کے پروگرامز دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے چائنہ ونڈو پشاور کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں کو چین کے قریب لا رہا ہے، جو قابلِ تحسین اقدام ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وومن یونیورسٹی مردان اپنے طلبہ، خصوصا طالبات کو معیاری تعلیم اور عالمی سطح پر مواقع فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے، جبکہ چینی جامعات کے ساتھ اشتراک تحقیق، اسکالرشپس اور فیکلٹی ایکسچینج کے نئے دروازے کھول رہا ہے۔


پروفیسر ڈاکٹر رضیہ سلطانہ نے کہا کہ مشترکہ سیمینار دونوں اداروں کے درمیان تعلیمی تعاون کو فروغ دینے کی جانب اہم قدم ہے اور اس سے پاک چین تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور چین کی دوستی آئندہ نسلوں تک مزید مضبوط اور مستحکم ہوتی رہے گی۔سیمینار سے خطاب میں ماہر تعلیم ڈاکٹر خالد خان کا کہنا تھا کہ چین اور پاکستان کی دوستی محض نعروں تک محدود نہیں ہے بلکہ چین پاکستان کی معاشی ترقی میں پاکستان کی بھرپور مدد کر رہا ہے جس کی بڑی مثال سی پیک کا منصوبہ اور دوسرے مرحلے میں اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ انہوںنے کہا کہ ہمیں چین سے سیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ خود انحصاری کی طرف بڑھا جائے۔ ممتاز کالم نگار ناز پروین نے چین کی ترقی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ80 کروڑ افراد کو خط غربت سے نکال کر چین نے جو کارنامہ انجام دیا ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔اسی طرح زراعت کے میدان میں چین نے جو ترقی کی ہے پاکستان بھی اب ان سے فائدہ اٹھا رہا ہے جو بلاشبہ دونوں ممالک کی دوستی سمیت معاشی حالت کی بہتری کی جانب اہم قدم ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر نیلوفر اکرام کا کہنا تھا کہ پاک چین دوستی نئی نسل کے لئے کامیابیوں کی منزل ہے جسے پانے کے لئے انہیں مزید محنت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان ثقافتی اور تعلیمی وفود کے تبادلوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے ایک دوسرے ملک کے عوام کو مزید قریب آنے کا موقع ملے گا۔ تقریب کے دوران یونی ورسٹی کی طالبات نے پاک چین دوستی کے حوالے سے شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔وائس چانسلر اور فیکلٹی ممبران نے پاک چین دوستی کی 75 ویں سالگرہ کا کیک بھی کاٹا۔







