امریکا نے خلیج عمان میں ایرانی تجارتی جہاز پر قبضہ کر لیا جس کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے جبکہ ایرانی فوج نے اسے مسلح ڈکیتی قرار دیتے ہوئے جلد جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ خلیج میں امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران ایران کے پرچم بردار ایک کارگو جہاز کو روک لیا گیا ہے، توسکا نامی جہاز نے رکنے کی وارننگ پر عمل نہیں کیا جس کے بعدجس پر ہمارے نیوی جہاز نے انجن روم میں بڑا سوراخ کر دیا اور امریکی بحریہ نے اسے تحویل میں لے لیا۔ امریکی صدر نے کہا یہ جہاز امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے کیونکہ اس کا پچھلا ریکارڈ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے اور اب امریکی میرینز جہاز پر موجود سامان کی تفتیش کر رہے ہیں۔ ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے بحری جہاز کو قبضے میں لیے جانے کے بعد اس واقعے کی ویڈیو جاری کی جس میں ایک بحری جہاز کو ایرانی کارگو شپ کو روکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق امریکی میرینز نے جہاز پر قبضہ کر لیا، جہاز اب امریکی تحویل میں ہے۔ عالمی میرین ڈیٹا کے مطابق ‘ایم وی توسکا’ کنٹینر شپ ہے ایرانی پرچم کے تحت رجسٹرڈ ہے، 7گھنٹے پہلے ایرانی جہاز کی رفتار انتہائی کم 1.2 ناٹس ریکارڈ کی گئی۔ جاری کردہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کارگو جہاز کو پیغامات بھیجنے کے بعد اس کی سمت میں فائرنگ کی جا رہی ہے۔دوسری جانب ایران نے اس کارروائی کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مسلح بحری ڈکیتی ہے اور اس کا جواب جلد دیا جائے گا۔ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر زکی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بحری جہاز پر فائرنگ اور اسے تحویل میں لینا جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس اقدام کا جواب جلد دیا جائے گا۔ایرانی میڈیا کے مطابق کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف جنگ بندی کی خلاف ورزی کی بلکہ سمندری راہزنی کا ارتکاب بھی کیا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ امریکی فورسز نے بحیرہ عمان میں ایران کے ایک تجارتی جہاز پر فائرنگ کی، اس کے نیویگیشن سسٹم کو ناکارہ بنایا اور اپنے مسلح میرینز کو جہاز پر اتار کر اسے قبضے میں لینے کی کوشش کی۔







