ایرانی صدر نے کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت کردی

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت کردی۔ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے، دشمن پر عدم اعتماد اور تعلقات میں ہوشیاری سے انکار نہیں کیا جاسکتا، کشیدگی کو کم کرنے کیلئے ہرعقلی اور سفارتی راستہ اپنانا چاہئے۔ ادھر ایرانی نائب صدر رضا عارف نے کہا ہے کہ تیل کی آزاد مارکیٹ سب کے لیے ہو گی یا کسی کے لیے نہیں، ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ایکس پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی مفت دستیاب نہیں، ایرانی تیل کی برآمدات روکتے ہوئے دوسروں کے لیے سیکیورٹی کی توقع نہیں کی جا سکتی، انتخاب واضح ہے یا تو سب کے لیے تیل کی آزاد منڈی ہو، یا پھر سب کو بھاری قیمت کے خطرے کا سامنا کرنا پڑے۔ان کا کہنا ہے کہ عالمی ایندھن کی قیمتوں میں استحکام اس بات پر منحصر ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اقتصادی اور فوجی دبا کا مستقل اور یقینی خاتمہ ہو۔ دوسری جانب روس میں ایرانی سفر نے روسی میڈیا کو انٹرویو میں کہا امریکا اوراسرائیل کے ایران پر کیے گئے حملے ناکام رہے،ہم پہلے سے زیادہ متحد اورپرعزم ہیں،ایران قانونی نظام کے تحت آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کو یقینی بناتا ہے،روس کی جانب سے ایران کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کی خبریں درست نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed