ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اب اس کی گزشتہ صورتحال پر آچکا ہے جس کی وجہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی مسلسل بندش ہے۔ ایرانی میڈیا پورٹس کے مطابق یہ بات ایران کی پاسداران انقلاب کے مشترکہ فوجی کمانڈ نے ایک بیان میں کہی ہے ۔ایران نے جمعہ کو تین شرائط کے تحت آبنائے ہرمز کو صرف عالمی تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے بحری ناکہ بندی جاری رکھی تو اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق اب ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش کا فیصلہ امریکا کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی مسلسل ناکہ بندی کے جواب میں کیا گیا ہے۔پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ چونکہ امریکا نے ناکہ بندی کے نام پر ایرانی بحری جہازوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، اس لیے ایران نے بھی اس تزویراتی آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ایرانی فوجی کمانڈ نے اپنے بیان میں امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ناکہ بندی کے نام نہاد بہانے کے تحت سمندری قزاقی اور بحری چوری کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اب اپنی سابقہ پوزیشن پر واپس آگیا ہے اور یہ اہم عالمی راستہ اب ایرانی مسلح افواج کے سخت انتظام اور مکمل نگرانی میں رہے گا۔ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ صورتحال اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکا ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت پر عائد رکاوٹیں ختم نہیں کر دیتا۔پاسداران انقلاب کی کمانڈ نے اپنے بیان میں دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جب تک امریکا ایران سے آنے جانے والے بحری جہازوں کے لیے سمندری سفر کی مکمل آزادی بحال نہیں کرتا، تب تک آبنائے ہرمز کی حیثیت سخت کنٹرول میں رہے گی اور اسے سابقہ صورتحال پر ہی برقرار رکھا جائے گا۔دریں اثنا ایرا ن کی فضائی حدود بھی جزوی طور پر کھول دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اپنی فضائی حدود کو جزوی طور پر کھول دیا ہے، اس سلسلے میں ایران کے سرکاری میڈیا آئی آر آئی بی نے رپورٹ کیا کہ ترجمان سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ایران نے ہفتے کے روز اپنی فضائی حدود کا کچھ حصہ دوبارہ کھول دیا ہے، جس سے بین الاقوامی پروازوں کو ملک کے مشرقی حصے سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے جس کے نتیجے میں ایران کی مشرقی فضائی حدود کا ایک حصہ اب پروازوں کے لیے کھلا ہے، اس کے ساتھ ہی ایئرلائنز کے ٹکٹ بھی خریداری کے لیے دستیاب ہیں۔







