خیبرپختونخوا میں جاری میٹرک سالانہ امتحانات کے دوران مردان، مالاکنڈ اور پشاور بورڈ کے کیمسٹری کے پرچے کے آٹ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ مبینہ طور پر پرچے کے ساتھ اس کے جوابات بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے ہیں، جس کے بعد امتحانی نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔تفصیلات کے مطابق کیمسٹری کا پرچہ امتحان سے قبل مختلف سوشل میڈیا گروپس اور واٹس ایپ پر گردش کرتا رہا، جس میں حل شدہ سوالات بھی شامل تھے۔ طلبہ اور والدین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ تعلیمی بورڈز اور حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔طلبہ کے مطابق اگر واقعی پرچہ امتحان سے پہلے لیک ہوا ہے تو یہ ان کے ساتھ ناانصافی ہے، کیونکہ اس سے میرٹ متاثر ہوتا ہے اور محنتی طلبہ کا حق مارا جاتا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ بار بار پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات تعلیمی نظام پر اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں۔دوسری جانب تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ پرچہ آٹ ہونے کے واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران مختلف بورڈز کے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جس کے باعث شفاف امتحانی نظام کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔







