پشاور ہائیکورٹ نے ریڈیو پاکستان پشاور پر 9مئی 2023کو ہونے والے حملے کی انکوائری کے لیے سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے قائم کمیٹی کے خلاف دائر درخواست کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا۔ کیس کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل شبیر حسین گگیانی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ سپیکر صوبائی اسمبلی کی تشکیل کردہ کمیٹی زیر سماعت مقدمے پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور سپیکر کے پاس ایسی کمیٹی بنانے کا اختیار نہیں۔اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ابھی تک کمیٹی کی جانب سے عدالت کو کوئی ہدایت یا دبا نہیں ڈالا گیا۔ عدالت نے کہا کہ سپیکر کسی ملزم کو سزا نہیں دے سکتے اور کیس کا حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔ جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے استفسار کیا کہ اگر کمیٹی کے پاس اختیار نہیں تو پھر ڈر کس بات کا ہے؟۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اس مقدمے میں بعض ارکان اسمبلی بھی نامزد ہیں اور کمیٹی ملزمان کی اپنی انکوائری کے مترادف ہے۔ عدالت نے جواب میں کہا کہ عدلیہ اتنی مضبوط ہے کہ کسی دبا سے متاثر نہیں ہو سکتی اور اس مرحلے پر کوئی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا کیونکہ درخواست قبل از وقت ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ کمیٹی اپنا کام جاری رکھ سکتی ہے اور زیر سماعت مقدمے پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا، جس کے بعد درخواست نمٹا دی گئی۔







