ایڈیشنل سیشن جج پشاور محمد آصف نے تھانہ آغامیر جانی شاہ کی حدود میں قتل ہونے والے کیس کے ٹرائل کے دوران گواہوں کی عدم پیشی پرانکے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے متعلقہ ایس ایچ ا و ، ڈی ایف سی سمیت دیگر کی تنخواہیںبندکرکے سی سی پی او پشاور ، ایس ایس پی انوسٹی گیشن سمیت ڈسڑکٹ پبلک پراسیکیورٹر کو 9 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کے احکامات جاری کردیئے ،عدالتی تحریری حکم نامے کے مطابق یہ مقدمہ پشاور کا انتہائی اہم اور ترجیحی کیس ہے ، تاہم گزشتہ پانچ سالوں کے دوران صرف ایک گواہ کا بیان ریکارڈ ہواجوکہ انصاف کے فراہمی پر ایک سوالیہ نشان ہے،گزشتہ روز جب گل شاہ جہاں قتل کیس کی سماعت شروع ہوئی تو اس موقع پرعدالت کو عدالت کوبتایاگیاکہ 21دسمبر2020کو تھانہ آغا میر جانی کی حدود میں جائیداد تنازع پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیاجس میں ملزم رحمت اللہ ( مفرور) نے فائرنگ کی ،جس کے نتیجے میں گل شاہ جہاںجابحق ہوگئے ، جس کی دعویداری ملزمان رحمت، عبداللہ، یونس اورغالب پرکی گئی ، بعدازیں رحمت اللہ کے علاوہ دیگر ضمانت پر رہاہوئے ، گزشتہ روز ملزم عبداللہ اپنے وکیل ذکریا جلا ل ایڈووکیٹ کے ہمراہ عدالت میں ہوئے دوسری جانب کیس کے سرکاری اور نجی گواہان پیش نہیںہوئے ،جس پر عدالت نے انکے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے ساتھ ساتھ انکے قومی شناختی کارڈ ز اور پاسپورٹس بلاک کرنے کا بھی حکم جاری کیا، اس کے علاوہ ڈی یف سی کے خلاف دفعہ 174کے تحت کاروئی کرتے ہوئے متعلقہ ایس ایچ او، نائب کورٹ اور ڈی ایف سی کی اتنخواہیں اور شانخٹی کارڈز بھی بند کرنے کے احکامات جاری کردیئے ، عدالت نے اپنے تحریری حکم نا مہ میں قراردیاکہ پولیس، پراسیکیوشن، گواہان ، سی سی اواور مدعی مقدمہ کی جانب سے بھی سنگین غفلت اور عدم دلچسپی کا مظاہر ہ کیاگیاجوکہ کسی بھی صورت قابل قبول نہیںبعدازیں عدالت نے اگلی پیشی پر سی سی پی اوپشاور، ایس ایس پی انویسٹی گیشن اور ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرکو عدالت میں پیش ہونے کے احکامات جاری کرتے ہوئے قراردیاکہ عدم پیشی پرتنخواہیں روکنے اور قومی شناختی کارڈبلاک کرنے سمیت قانون کے مطابق کاروئی کا عندیہ دے دیاگیا۔







