پشاور ہائیکورٹ نے عدالتی احکامات کے باوجود خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کے گریڈ 17 کے افسران کو 18 میں ترقی کے لئے پروموشن بورڈ کا اجلاس نہ بلانے پر ڈائریکٹر جنرل خیبرپختون خوا ریونیو اتھارٹی کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کرلیا ۔اس حوالے سے جسٹس اعجاز انور پر مشتمل بنچ نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ ڈائریکٹر جنرل کیپرا عدالتی احکامات پر عمل درامد نہ ہونے پر اگلی سماعت پر پیش ہو جائے۔ توہین عدالت کی درخواست کے دوران درخواست گزار محمد منیر وغیرہ نے موقف اختیارکیا کہ وہ گریڈ 17 میں کیپرا میں بحیثیت اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھرتی ہوئے اور قانون کے مطابق پانچ سال بعد اگلے گریڈ میں اس کی ترقی ہونا لازمی ہے تاہم اس ضمن میں کیپرا کی انتظامیہ نے انہیں ترقی نہیں دی بلکہ باہر سے پی ایم ایس افسران ڈی پیوٹیشن پر اکر ان کی سیٹوں پر براجمان ہو جاتے ہیں جس سے ان کی ترقی کا عمل متاثر ہوتا ہے انہوں نے عدالت کوبتایا کہ پشاور ہائیکورٹ نے 10 جون 2025 کو حکم دیا تھا کہ ڈی جی اس ضمن میں پروموشن بورڈ کا اجلاس بلائے اور درخواست گزاروں کو خیبر پختون خوا ریونیو ایکٹ اور اے پی ٹی رولز کے تحت اگلے گریڈ میں ترقی سے متعلق اقدامات اٹھائے تاہم ایسا نہیں کیا جار رہا ۔دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ اس ضمن میں پی ایم ایس افسران ڈی پوٹیشن پر آجاتے ہیں حالانکہ یہ آتھارٹی میں بھرتی ہونے والیملازمین کا حق ہے اور وہ قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد ہی گریڈ 17 میں براہ راست بھرتی ہوتے ہیں مگر ایسا نہیں کیا جا رہا اور پشاورہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا ۔پشاور ہائیکورٹ نے پروموشن بورڈ کا اجلاس تین ماہ میں بلانے کی ہدایت کی تاکہ ان درخواست گزاروں کی ترقی کا کیس حل کیا جا سکے لیکن ابھی تک ایسا نہیں کیا جا رہا اور پی ایم ایس افسران ڈی پوٹیشن پر اکر ان کی سیٹوں پر بٹھا دیئے جاتے ہیں حالانکہ یہ ڈی جی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کو اگاہ کریں کہ یہ پروموشن کی پوسٹیں ہیں اور ان پر ڈی پوٹیشن پر باہر سے افسران نہیں آسکتے مگر ایسا نہیں کیا جا رہا اور من پسند افراد کو تعینات کیا جاتا ہے جو کہ درست نہیں انہوں نے عدالت کوبتایا کہ پشاور ہائیکورٹ پہلے ہی متعدد درخواستوں میں ان معاملات کو نمٹا چکی ہے اور عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے عدالت نے ڈی جی خیبر پختون خوا ریونیو اٹھارٹی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا اور سماعت ملتوی کردی۔







