پاک ایران تجارتی روابط، خطے میں معاشی استحکام کی نئی امید

پاکستان اور ایران کے مابین سرمایہ کاری اور تجارتی روابط میں حالیہ پیش رفت ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جو نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو نئی جہت دے سکتی ہے بلکہ خطے میں معاشی تعاون کے فروغ کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ اور ایرانی قونصل جنرل اکبر عیسٰی زادہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاک ایران دو طرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا جو ہدف مقرر کیا گیا ہے وہ دونوں ممالک کے اقتصادی وژن اور باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔پاکستان اور ایران جغرافیائی طور پر پڑوسی ہونے کے باوجود ماضی میں اپنی تجارتی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ اس کی متعدد وجوہات رہی ہیں جن میں بین الاقوامی پابندیاں، سرحدی انتظامی مسائل، بینکاری چینلز کی کمی اور پالیسی سطح پر عدم تسلسل شامل ہیں تاہم حالیہ برسوں میں بدلتی علاقائی صورتحال عالمی منڈیوں میں نئی صف بندی اور معاشی ضرورتوں نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے پر مجبور کیا ہے۔ اسی تناظر میں 10 ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف ایک حقیقت پسندانہ مگر پرعزم قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ملاقات میں مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام پر اتفاق ایک نہایت اہم پیش رفت ہے۔ ایسی کمیٹیاں نہ صرف پالیسی سازی میں سہولت فراہم کرتی ہیں بلکہ نجی شعبے اور حکومتی اداروں کے درمیان رابطے کو بھی موثر بناتی ہیں۔ پاکستان اور ایران دونوں اس امر پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ صرف سرکاری سطح کے معاہدے کافی نہیں بلکہ نجی شعبے کا فعال کردار ہی تجارتی حجم میں حقیقی اضافہ لا سکتا ہے۔ اسی لیے ملاقات میں نجی شعبے کے فروغ اور اقتصادی و صنعتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔قزوین چیمبر آف کامرس کے سربراہ اور اراکین کی کراچی میں تجارتی و صنعتی نمائش میں خصوصی شرکت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس نمائش کے دوران زراعت، کیمیائی صنعت، ایل این جی اور توانائی کے شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع پر جو تفصیلی تبادلہ خیال ہوا، وہ اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی ضروریات اور صلاحیتوں کو سمجھنے لگے ہیں۔ ایران توانائی کے وسیع ذخائر رکھتا ہے جبکہ پاکستان توانائی کی قلت سے دوچار رہا ہے۔ اسی طرح زراعت اور کیمیائی صنعت میں تعاون دونوں ممالک کے لیے باہمی فائدے کا سبب بن سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاک ایران تجارتی تعلقات میں تسلسل اور استحکام آتا ہے تو اس کے ثمرات صرف دو طرفہ تجارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ علاقائی اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بھی آسان ہو جائے گی۔ پاکستان وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک قدرتی راہداری ہے جبکہ ایران مغربی ایشیا اور یورپ تک رسائی کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ اس اشتراک سے دونوں ممالک ٹرانزٹ ٹریڈ لاجسٹکس اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں نمایاں فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔دو طرفہ تجارتی تعاون کے نتیجے میں معاشی استحکام، روزگار کے نئے مواقع اور عوامی خوشحالی کی امید بھی وابستہ ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے برآمدات میں اضافہ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد ناگزیر ہے جبکہ ایران بھی اپنی معیشت کو متنوع بنانے اور نئی منڈیوں تک رسائی کا خواہاں ہے۔ اس پس منظر میں دونوں ممالک کا ایک دوسرے پر اعتماد بڑھانا خطے کے مجموعی استحکام کے لیے بھی مثبت پیش رفت ہوگی۔اس تمام عمل میں سپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل کی دوراندیش حکمت عملی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایس آئی ایف سی کی کاوشیں پاکستان کے بین الاقوامی اور اقتصادی روابط میں بہتری کا سبب بن رہی ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی فضا قائم کر رہی ہیں۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو پاکستان نہ صرف ایران بلکہ دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ بھی اپنے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنا سکے گا۔اس لئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاک ایران تجارتی تعلقات کا فروغ محض ایک اقتصادی ہدف نہیں بلکہ خطے میں تعاون، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلانات کو عملی اقدامات میں بدلا جائے، رکاوٹوں کو دور کیا جائے اور نجی و سرکاری شعبے مل کر اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ یہی راستہ پاکستان اور ایران دونوں کے لیے ایک روشن معاشی مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔md.daud78@gmail.com

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed