شام کی عدالتوں پر ڈسٹرکٹ بار پشاور کے تحفظات

شعیب جمیل

پشاور ہائیکورٹ کی جانب پشاور اور ایبٹ اباد میں آزمائشی بنیادوں پر شام کے اوقات میں عدالتیں شروع کرنے کے فیصلے پر ڈسٹرکٹ بار پشاور نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خیبر پختونخوا بار کونسل کو خط لکھ دیا ۔پشاور ڈسٹرکٹ بار کے صدر قیصر زمان ایڈووکیٹ کی جانب لکھے گئے خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہائی کورٹ نے دو اضلاع میں شام کے اوقات میں عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے سفارشات کی روشنی میں کیا جا رہا ہے۔ تا ہم وکلا کو اس فیصلے پر اعتماد میں نہیں لیا گیا اور. انکی شدید تحفظات ہیں ۔خط کے مطابق سکینڈ شفٹ کی عدالتیں وکلا کے کام کو شدید متاثر کریں گی کیونکہ وکلا پہلے سے زیادہ مصروف ہیں اس سے مزید بوجھ بڑھے گا ۔اس کے ساتھ ساتھ وکلا کو کیسز کی تیاریوں سمیت دیگر مشکلات کا سامنا ہوگا ، اس لئے ضروری ہے کہخیبر پختونخوا بار کونسل اس مسئلے کے حل اور وکلا کے تخفظات کا معاملہ متعلقہ فورم پر اٹھائے اور کے پی بار پشاور ہائیکورٹ سے مشاورت کریں اور انہیں وکلا کے تحفظات سے آگاہ کریں۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے پشاور اور ایبٹ آباد کی سیشن کورٹس میں پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر عدالتوں میں دوسری شفٹ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے ہائیکورٹ کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق پشاور اور ایبٹ آباد کے جوڈیشل افسران کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ شام کی عدالتوں کے اوقات کار دوپہر ڈھائی بجے سے شام ساڑھے 5 بجے تک مقرر کیے گئے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed