عدنان بشیر
شرقی سہولت مرکز میں خواتین پولیس ڈیسک قائم نہ ہونے کی وجہ سے خواتین شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔خواتین کو اپنے مسائل کے حل اور دستاویزات کے حصول کے لیے مرد اہلکاروں سے رجوع کرنا پڑتا ہے جو ان کے لیے غیر موزوں اور تکلیف دہ صورتحال ہے۔اسی طرح خیبر کے مختلف سہولت مراکز میں بھی خواتین پولیس ڈیسک اور خواتین اہلکاروں کی عدم موجودگی عوامی مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سہولت کے نام پر بنائے گئے یہ مراکز خواتین کے لیے ’’بے سہولت‘‘ ثابت ہو رہے ہیں.عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر شرقی اور خیبر کے تمام سہولت مراکز میں خواتین پولیس ڈیسک قائم کیے جائیں۔
ساتھ ہی خواتین اہلکار تعینات کی جائیں تاکہ خواتین کو حقیقی معنوں میں سہولت فراہم ہو سکے۔







