محکمہ توانائی میں32ارب سے زائد کی بے قاعدگیوں کا انکشاف

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 21-2020 کی آڈٹ رپورٹ میں خیبرپختونخوا کے محکمہ توانائی میں 32 ارب 98 کروڑ روپے سے زائد کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی سی ون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیڈو کے 7 منصوبوں کے پراجیکٹ ڈائریکٹرز تعینات ہوئے، جن کی تعیناتی میں بے قاعدگیوں سے 4 کروڑ 56 لاکھ روپے کا خسارہ نوٹ کیا گیا، جبکہ ان منی مائیکرو ہائیڈرو پراجیکٹس کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتیوں سے 57 لاکھ روپے کی بے ضابطگی ہوئی۔اڈٹ رپورٹ کے مطابق کروڑہ، جبوڑی، کوٹو اور مٹلتان پاور پراجیکٹس میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں ہوئیں، جبکہ ان 4 پاور پراجیکٹس کی غلط پیمائش سے مختلف منصوبوں میں 15 ارب 37 کروڑ روپے کی بے ضابطگی آئی۔رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ 84 میگا واٹ کے گورکن مٹلتان پراجیکٹ میں پی سی ون کی خلاف ورزی پر 13 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگی ہوئی، جبکہ کوٹو ہائیڈرو پراجیکٹ میں یقینی دہانی کے باوجود ٹھیکیدار سے 62 کروڑ 99 لاکھ روپے کی ریکوری بھی نہیں کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالاکنڈ تھری پاور پراجیکٹس میں لیٹ ریکوری کے باعث 62 کروڑ 25 لاکھ روپے کا خسارہ اسی وجہ سے ریکارڈ کیا گیا ہے، اور اس سے مالی مشکلات میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Fill out this field
Fill out this field
براہ مہربانی درست ای میل ایڈریس درج کریں۔
You need to agree with the terms to proceed