عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما امیر حیدر ہوتی نے کہا ہے کہمیں اتنا خوش قسمت نہیں کہ پی ٹی آئی حکومت گرانے کے کیلئے جنرل (ر) آصف باجوہ مجھ سے رابطے کرتے، اب وقت ہے کہ بونیر کے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کی جائے، یہاں پر لوگ ذہنی مریض بن گئے ہیں، ان کے دکھوں کا مداوا کرنا چاہیے۔ایک انٹرویو میں امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ دوسروں کے کئے کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں، عالمی سطح پر اتنی انڈسٹریز لگائی گئیں کہ ہم متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی کہتے ہیں کہ مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، اس پر میں وزیراعلی سے کہوں گا کہ آپ کے وسائل گلوبل وارمنگ سے لڑنے کے لیے کافی نہیں ہیں اس لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر متاثرین کے گھر دوبارہ تعمیر کریں۔امیر حیدر ہوتی نے مزید کہا کہ صرف، آٹا، دال چینی دینے سے ان لوگوں کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، 2010 میں سیلاب آیا تھا تو میں وزیراعلی تھا مجھے تجربہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی کو مشورہ دوں گا کہ ترقیاتی فنڈ کو منجمد کریں، تمام ترقیاتی فنڈز روک کر سیلاب سے متعلق تعمیر نو پر لگائیں۔ اس موقع پر امیر حیدر ہوتی سے سوال کیا گیا کہ جنرل (ر) باجوہ نے پی ٹی آئی حکومت گرانے کے لئے آپ سے رابطہ کیا تھا؟اس کے جواب میں کہا کہ وہ کچھ اور خوش نصیب ہوں گے جن سے باجوہ صاحب نے رابطہ کیا ہوگا، میں اتنا خوش قسمت نہیں کہ باجوہ صاحب مجھ سے رابطے کرتے۔







