ویب ڈیسک: محکمہ جنگلات میں غیرقانونی بھرتیاں کرنے پر سرکاری خزانے کو کروڑوں کا ٹیکہ لگا دیا گیا، محکمہ جنگلات میں 24-2023 کے دوران بھرتیوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ جنگلات نے سوات ڈویژن میں 300 غیر قانونی چوکیدار بھرتی کیے، یہ بھرتیاں بغیر سکروٹنی اور فزیکل ٹیسٹ کی گئیں، جبکہ یہ بھرتیاں بغیر ضرورت اور رولز کی خلاف ورزی سے کی گئیں، آڈیٹرجنرل رپورٹ میں بھرتیوں سے متعلق وضاحت مانگی گئی ہے۔
آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چوکیداروں کی تقسیم اپر سوات، لوئر سوات اور کالام میں غیر مساوی انداز میں کی گئیں، بھرتیوں میں جسمانی ٹیسٹ اور جانچ پڑتال شامل نہیں تھی۔
رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ ان کو تنخواہیں مقامی بجٹ سے، مگر خدمات دیگر ڈویژنز میں انجام پائیں، بھرتیوں سے متعلق محکمہ جنگلات نے ایڈیٹر جنرل کو جواب جمع نہیں دیا۔
محکمہ جنگلات میں غیر قانونی بھرتیاں، سرکاری خزانے کو کروڑوں کا ٹیکہ







