ویب ڈیسک: محکمہ اینٹی کرپشن کی انتخابی دھاندلی شکایات پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے، اس سلسلے میں سابق صوبائی وزیر کامران بنگش کو طلب کیا گیا ہے۔
محکمہ اینٹی کرپشن نے انتخابی دھاندلی شکایات پر کارروائی شروع کر دی ہے، ریٹرننگ آفیسر پی کے 82اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر پشاور کیخلاف شکایات درج کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر کامران بنگش کو طلب کرلیا ہے۔
محکمہ اینٹی کرپشن کے انچارج سپیشل انوسٹی گیشن ونگ کی جانب سے سابق صوبائی وزیر کامران بنگش کو جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کامران خان بنگش نے شکایت میں الزام لگایا تھا کہ پی کے82پشاور کے ریٹرننگ آفیسر اویس خان، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر آفاق وزیر اور دیگر پولنگ سٹاف نے فارم45 اور فارم48 میں جعل سازی کرتے ہوئے انتخابی نتائج میں دھاندلی کی ہے، ان پر بدعنوانی، رشوت خوری اور غیر قانونی فوائد حاصل کرنے کے سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے شکایت کا اندراج کرلیا، اور کامران خان بنگش کو 11 اگست کو دفتری اوقات میں تمام متعلقہ دستاویزات اور شواہد کے ساتھ اینٹی کرپشن ہیڈکوارٹرز پشاور پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر شواہد قابل اعتبار ثابت ہوتے ہیں تو ملوث افسروں کیخلاف فوجداری کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔
یاد رہے سابق صوبائی وزراء کامران بنگش اور تیمور جھگڑانے عام انتخابات میں دھاندلی کی شکایات انٹی کرپشن کو جمع کرائی تھیں جس پر کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔
انتخابی دھاندلی شکایات پر کارروائی شروع، کامران بنگش طلب







