شعیب جمیل
پشاوربارایسوسی ایشن نے لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اورجانشینی سرٹیفکیٹ کے طریقہ کار میں تبدیلی کے اقدام کو پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیاہے ۔ زاہد اللہ زاہد، افتخار حسین سمند ر اور اظہار اللہ ایڈووکیٹس کی وساطت سے دائر رٹ میں صدر ڈسٹرکٹ بار پشاور امجد علی مروت ایڈوکیٹ نے صوبائی حکومت کو بذریعہ چیف سیکرٹری ، سیکرٹری قانون اور چیئرمین نادرا کو فریق بناتے ہوئے موقف اپناکہ لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اور جانشینی سرٹیفکیٹ کا حصول سادہ درخواست پر سینئرسول جج کے پاس جمع ہوکر اسکا حصول آسان اور سادہ طریقہ کار سے ممکن تھا تاہم بعد میں خیبر پختونخوا حکومت نے لیٹر آ ف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹ ایکٹ 2021میں ترمیم کرکے سول کورٹ کے اختیارات ختم کرکے مذکوہ اسناد کے اجرا کے اختیارات نادرا کو دے کر بیس ہزار روپے فیس مقرر کردی ، اسکے ساتھ دیگرلوازمات بھی مکمل کرنی پڑتی ہیں ، جسکی وجہ سے یہ طریقہ کار مشکل بن گیا، اسکے علاوہ اگر ان میں کوئی تبدیلی درکار ہوتو سائل دوبارہ سول کورٹس کے چکر لگانے پر مجبور ہوجاتاہے ، نادرا کو یہ اختیارات ا ن لیٹرز اور سرٹیفکیٹس کا حصول آسان بنانے کیلئے دیئے گئے تھے تاہم یہ طریقہ کار آسانیاں پیدا کرنے کی بجائے مشکلات پیداکر رہاہے جس کی وجہ سائلین کو مشکلات درپیش آرہی ہیں، رٹ میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ عدالت حکومت کو پابند کرے کہ سائلین اپنی مرضی سے نادرا یا سول کورٹ دونوں اداروں سے مذکورہ اسناد کے حصول کیلئے رابطہ کرسکے۔







