شعیب جمیل
پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کو ختم کرکے نئی کمپنی بنانے اور ان کے ملازمین کو زبردستی گولڈن ہینڈ شیک کے تحت فارغ کرنے کے خلاف دائر رٹ پر مذکورہ ملازمین کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی روکتے ہوئے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ۔گزشتہ روز پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس اعجاز خان صابی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین نورزمین شنواری وغیرہ کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی۔ اس موقع پر درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر عامرجاوید اور بیرسٹر ثاقب رضا عدالت میں پیش ہوئے کیس کی سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت کوبتایا کہ اس وقت مذکورہ ڈیپارٹمنٹ کے 6 ہزار سے زائد ملازمین ہیں جس میں گریڈ ایک سے لیکر 22 تک کے اہلکار اور افسران شامل ہیں یہ محکمہ وفاق کے 17 ہزار 694 جائیدادوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ دیکھ بال بھی کررہی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پی ڈبلیوڈی وفاق کے ہاوسنگ ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت ہے وزیراعظم پاکستان نے 27 مئی کو یہ حکم جاری کیا کہ اس محکمے کوبند کیا جارہا ہے کیونکہ اس میں کرپشن اور اقراباپروی کے ساتھ ساتھ اس کی کوئی کارکردگی نہیں اسلئے اس کو ختم کیا جائے گا ۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ وزیراعظم پاکستان کے اس اعلان کے بعد مختلف مواقعوں پر اس ڈیپارٹمنٹ کی بندش اور ان کے ملازمین کے بارے میں فیصلے کئے گئے اور متعدد کمیٹیاں بنائی گئیں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ صوبوں میں وفاق کے ان منصوبوں کا انتظام صوبوں کے کمیونیکشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیا جائے انہوں نے عدالت کوبتایا کہ اس وقت 13 ہزار پانچ سو کے قریب سکیمیں اس کی نگرانی میں چل رہی ہے جبکہ اس کے لئے 31 بلین روپے منظور ہوئے ہیں تاہم اس سال کے بجٹ میں وزیراعظم کے اس علان کے بعد کوئی فنڈز ریلیز نہیں کیا گیا جس سے اس ڈیپارٹمنٹ کی اہمیت ختم کی جارہی ہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ پاکستان انفراسٹکچرڈیویلپمنٹ کمپنی کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور پی ڈبلیو ڈی کے ملازمین کو فارغ کیا جائے گا جس کیلئے انہیں زبردستی گولڈن ہینڈ شیک دیا جارہا ہے انہوں نے عدالت کوبتایا کہ وفاقی حکومت کے یہ اقدامات غیرائینی اور غیر قانونی ہے







