شعیب جمیل
پشاور ہائیکورٹ نے صوابی میں مستورات کے تنازعے پر سسر کو قتل کرنے والے ملزم کی عمرقید کیخلاف دائر اپیل خارج کردی اور ملزم کی سزابرقراررکھی جسٹس ارشدعلی اور جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ پر مشتمل دورکنی بنچ نے ملزم عبداللہ ساکن ٹوپی کی اپیل پر سماعت کی اس موقع پر مدعی مقدمہ کی جانب سے سید مبشرشاہ ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ 2017میں تھانہ صوابی کے علاقے بام خیل میں ملزم عبداللہ نے اپنے سسر حیدر ساکن بام خیل سوانی کوفائرنگ کرکے قتل کردیا تھا جبکہ وجہ عناد مستورات کا تنازعہ تھا قتل کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے اس کیخلاف مقدمہ درج کیا جبکہ ٹرائل کورٹ صوابی نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو عمرقید اور10لاکھ روپے کی سزاسنائی سید مبشرشاہ ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو ورثانے براہ راست ایف آئی آر میں نامزد کیا ہے اور اس سے آلہ قتل بھی برآمد کیا گیا اس طرح تمام واقعاتی شہادتیں ملزم کیخلاف جاتی ہیں کہ اسی نے یہ جرم کیا ہے لہذا وہ کسی قسم کی رعایت کا مستحق نہیں اور ٹرائل کورٹ نے اسے درست سزادی ہے دوسری جانب ملزم کے وکیل نے دلائل دیئے کہ اس کے موکل کیخلاف بے بنیاد کیس بنایا گیا اور اس کیخلاف ٹھوس شواہد موجود نہیں ہے لہذا اس کی سزاکالعدم قراردی جائے فاضل بنچ نے دوطرفہ دلائل کے بعد ملزم کی اپیل خارج کردی اور سیشن کورٹ کے فیصلے کو برقراررکھا ۔







